شامی باغیوں کا ترکی کی سرحد کے نزدیک ایک اور گاؤں پر قبضہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

ترکی کے حمایت یافتہ شامی باغیوں نے داعش کے خلاف لڑائی کے دوران ترک سرحد کے نزدیک واقع ایک اور گاؤں پر قبضہ کر لیا ہے اور داعش کے جنگجو وہاں شکست کے بعد پسپا ہوگئے ہیں۔

جیش الحر کے تحت لڑنے والے شامی گروپ حمزہ بریگیڈ نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے داعش سے سرحدی گاؤں عرب عزہ کا قبضہ چھڑوا لیا ہے۔اسی گاؤں کے نزدیک گذشتہ روز ترکی کے لڑاکا طیاروں نے بمباری کی تھی۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے باغی گروپ کے اس دعوے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ اس نے اس کے نزدیک واقع ایک اور گاؤں پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔ترک فوج کے لڑاکا طیاروں نے عرب عزہ اور جرابلس کے مغرب میں واقع ایک اور گاؤں الغندرہ میں جمعے کے روز تین مقامات پر بمباری کی تھی۔

درایں اثناء ترکی نے شام کے شمالی گاؤں الرائے میں مزید ٹینک بھیج دیے ہیں۔اس طرح اس نے داعش کے جنگجوؤں کے خلاف ایک اور محاذ جنگ کھول لیا ہے۔

شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی اناطولو کے مطابق ٹینک سرحدی شہر کیلس سے شامی گاؤں میں داخل ہوئے ہیں اور ان کا مقصد شامی حزب اختلاف کے جنگجوؤں کو داعش کے خلاف کارروائی میں فوجی کمک بہم پہنچانا ہے۔

ترکی کی ایک اور نیوز ایجنسی دوغان کا کہنا ہے کہ ٹینک سرحدی گاؤں ''کوبان بے'' سے سرحد کے دوسری جانب واقع گاؤں الرائے میں داخل ہوئے ہیں۔ اس دوران ترک فوج نے شامی علاقے میں گولہ باری بھی کی ہے جس کے بعد زور دار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہی ہیں۔

ترکی نے شام کے سرحدی علاقے میں 24 اگست کو''فرات کی ڈھال'' کے نام سے داعش اور شامی کرد ملیشیا کے خلاف کارروائی شروع کی تھی اور اس کے حمایت یافتہ شامی باغیوں نے سرحدی شہر جرابلس پر داعش کو شکست دینے کے بعد قبضہ کر لیا تھا۔

اس کا کہنا ہے کہ شام میں اس کا طویل عرصے کے لیے فوجی قیام کا کوئی ارادہ نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد داعش کے جنگجوؤں اور کرد ملیشیا وائی پی جی کے خطرات سے اپنے سرحدی علاقے کو محفوظ بنانا ہے۔ترکی نے کرد علاحدگی پسند گروپ پی کے کے کی طرح وائی پی جی کو بھی دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ ''کسی کو بھی ہم سے یہ توقع نہیں کرنی چاہیے کہ ہم اپنی جنوبی سرحد پر دہشت گردی کے راستے کی اجازت دے دیں گے''۔

انھوں نے کہا کہ ترکی کے آپریشن فرات کی ڈھال کے دوران داعش اور کرد ملیشیا وائی پی جی کے زیر قبضہ چار سو مربع کلومیٹر کے علاقے کو بازیاب کرا لیا گیا ہے۔انھوں نے یہ دعویٰ بھی مسترد کردیا ہے کہ وائی پی جی کے جنگجو کردوں کے کنٹرول والے ایک علاقے سے دریائے فرات کے مشرقی کنارے کی جانب چلے گئے ہیں۔

وائی پی جی کا کہنا ہے کہ اس نے اپنی فورسز کو ترکی کے حمایت یافتہ باغیوں کے آپریشن والے علاقے سے واپس بلا لیا ہے جبکہ امریکی حکام کا بھی کہنا ہے کہ کردملیشیا نے اپنی زیادہ تر فورسز کو فرات کے مشرق کی جانب منتقل کردیا ہے۔

اس دعوے کے ردعمل میں ترک صدر نے کہا ہے کہ ''فی الوقت وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ وائی پی جی نے دریائے فرات کو عبور کر لیا ہے لیکن ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ انھوں نے ایسا نہیں کیا ہے اور اس کا ثبوت ہمارا اپنا مشاہدہ ہے''۔

ترکی کے نائب وزیراعظم نعمان قرطلمس نے جمعے کو ایک انٹرویو میں امریکا سے اس مطالبے کا اعادہ کیا تھا کہ وہ وائی پی جی پر دریائے فرات کے مشرقی کنارے کی جانب چلے جانے کے لیے دباؤ ڈالے۔انھوں نے شکاگو کے دورے کے موقع پر کہا کہ ''اگر ہم امریکی فورسز کے ساتھ مل کر یہ کارروائی کرتے ہیں تو بہت مفید ثابت ہوگی۔اس لیے ہم یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ امریکا پی وائی جی پر کیا دباؤ ڈالتا ہے''۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں