عراق : اسلحہ ڈپو میں زوردار دھماکا اور راکٹ باری ، چار افراد ہلاک

ایران کی حمایت یافتہ ایک شیعہ ملیشیا کے ڈپو میں آتش زدگی کے بعد راکٹ چلنا شروع ہوگئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

عراق کے دارالحکومت بغداد میں اسلحے ایک ڈپو میں آتش زدگی کے بعد زوردار دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں وہاں پڑے راکٹ خود بخود چلنا شروع ہوگئے اور وہ نواحی آبادی پر جا کر گرے ہیں جس سے چار افراد ہلاک اور چودہ زخمی ہوگئے ہیں۔

ویڈیو فوٹیج میں دھماکے کے بعد ڈپو سے دھویں کے بادل بلند ہوتے دیکھے جاسکتے ہیں۔دھماکا اتنا شدید تھا کہ اس کی جگہ پر پانچ میٹر ( 15 فٹ گہرا) اور 20 میٹر چوڑا گڑھا پڑ گیا ہے۔اس سے بہت سی قریبی عمارتوں اور وہاں کھڑی گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

آتش زدگی اور دھماکے کے بعد اس ڈپو سے چلنے والے راکٹوں سے آٹھ مقامات پر مکانوں ،دکانوں اور کاروں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔راکٹ گرنے سے آٹے کی ایک فیکٹری کو بھی آگ لگ گئی اور وہ دو گھنٹے کے بعد بھی نہیں بجھائی جاسکی تھی۔

عراقی پولیس کے ایک افسر کا کہنا ہے کہ یہ اسلحہ ڈپو ایران کی حمایت یافتہ داعش مخالف مختلف شیعہ ملیشیاؤں پر مشتمل اتحاد الحشد الشعبی میں شامل ایک گروپ کا تھا۔بغداد میں اسلحہ ڈپو میں دھماکا اور راکٹ باری ایسے وقت میں ہوئی ہے جب کاظمیہ کے علاقے میں اہل تشیع کی ایک بڑی تعداد امام کاظم کے مزار پر ایک مذہبی تقریب میں شرکت کے لیے جمع تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں