شامی اپوزیشن 'مائنس بشار الاسد' کے مطالبے پر قائم

’عبوری حکومت میں اسد رجیم کے لیے کوئی گنجائش نہیں‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام کی اعتدال پسند اپوزیشن قوتوں نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ وہ شام کا تنازع پرامن طریقے اور بات چیت سے حل کرنا چاہتے ہیں مگر عبوری حکومت میں بشارالاسد کا کوئی کردار قبول نہیں کیا جائے گا۔

'العربیہ' کے مطابق آئندہ بدھ کو لندن میں ہونے والے دوستان شام ممالک کے اجلاس میں شرکت سے قبل سعودی عرب کے شہر جدہ میں دو روز تک جاری رہنے والی بات چیت میں شام کی سپریم مذاکراتی کونسل نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ اپوزیشن ’مائنس بشار الاسد‘ کے مطالبے پر قائم ہے۔ اپوزیشن قوتیں شام میں ایسا کوئی سیاسی اور عبوری حل قبول نہیں کریں گی جس میں بشار الاسد کو بھی کردار سونپا گیا ہو۔

اپوزیشن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ شام کے تنازع کے حل کے لیے پہلے جنیوا اجلاس میں طے پائے امور کو سامنے رکھا جائے۔ پہلے جنیوا اجلاس میں واشگاف الفاظ میں عالمی برادری بشارالاسد کوعبوری سسٹم سے خارج کرنے کے حق میں قرارداد منظور کرچکی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ شام کے تنازع کا بہتر اور مناسب حل صرف وہی ہے جسے اپوزیشن کی سپریم کونسل کی طرف سے پیش کیا گیا ہے۔ شام میں ایک با اختیار اور تمام سیاسی قوتوں کا نمائندہ حکومتی نظم قائم کیا جائے جس میں بشارالاسد اور ان کے حامیوں کا کوئی کردار نہ ہو۔

شامی اپوزیشن کی سپریم کونسل کا کہنا ہے کہ کونسل اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر شامی قوم کو درپیش مصائب کم کرنے کے لیے مساعی جاری رکھے گی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ شامی قوم کے مسائل کا حل عالمی سطح پر منظور کی جانے والی قراردادوں پرعمل درآمد میں مضمر ہے۔

اپوزیشن نے الزام عاید کیا کہ اسد رجیم نہتے شہریوں پر فاسفورس بم اور بین الاقوامی قوانین کی رو سے ممنوعہ ہتھیاروں اور کیمیائی اسلحے کا بے دریغ استعمال کررہی ہے۔ نیز شامی حکومت شہریوں کو جبرا ملک چھوڑنے پرمجبور کرنے کی ظالمانہ پالیسی پرعمل پیرا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں