"بشار الاسد" کے ہسپتال میں داخل ہونے پر ہنگامہ برپا !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام میں بشار الاسد نامی ایک بچے کو اس کا ہاتھ زخمی ہونے کی وجہ سے فوری طور پر ایک ہسپتال منتقل کیا گیا۔ حسن اتفاق کہ مذکورہ بچے کا تعلق بھی شامی صدر بشار الاسد کے آبائی شہر قرادحہ سے تھا۔ ہسپتال میں داخل کراتے ہونے پر عملے نے بچے کا پورا نام "بشار وسیم الاسد" لکھنے کے بجائے صرف "بشار الاسد" لکھ دیا۔ اس کے نتیجے میں بعض لوگوں کو گمان ہوا کہ "شامی صدر ہسپتال میں ہے !"

کچھ ہی دیر میں یہ افواہ قرادحہ سے تقریبا 18 کلومیٹر دور واقع شہر "جبلہ" پہنچ گئی جہاں شامی صدر کے علوی فرقے سے تعلق رکھنے والے بعض خاندان بھی رہتے ہیں۔ "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے مطابق شام کے ساحلی شہر "جبلہ" میں فوجی انٹیلی جنس کے ادارے کو افواہ اڑانے والوں کے خلاف حرکت میں آنا پڑا اور یہ واضح کیا گیا کہ ہسپتال میں جس بشار الاسد کا علاج ہو رہا ہے وہ شامی صدر نہیں بلکہ ایک چھوٹا بچہ ہے۔ بعد ازاں معلوم ہوا کہ اس خبر کا ذریعہ شامی اپوزیشن نہیں بلکہ "قرداحہ" شہر کے لوگوں میں سے ہے۔

آخر کار بچے کے والد وسیم بدیع الاسد نے جو صدر بشار الاسد کا چچا زاد بھائی ہے ، اپنے فیس بک پیج پر 27 اگست کی ایک وڈیو پوسٹ کی جس میں وہ اپنے بیٹے کے ساتھ نظر آ رہا ہے، بچے کے ہاتھ پر سفید رنگ کی کپڑے کی پٹی بندھی ہوئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں