حلب میں ایک نئے کیمیائی حملے کے متاثرین سامنے آگئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام کے شہر حلب میں شامی باغیوں کے زیر قبضہ علاقے پر مبینہ طور پر کیمیائی حملے کے دوران کے نتیجے میں درجنوں افراد کو سانس لینے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

شامی باغیوں کے علاقوں میں کام کرنے والی ایک تنظیم "شامی سول ڈیفنس" کے مطابق شام کی سرکاری فوج کے ہیلی کاپٹرز نے حلب کے علاقے السکری میں کلورین گیس والے بیرل بموں پھینکے ہیں۔

شامی حکومت نے پانچ سال سے جاری اس خانہ جنگی کے دوران ماضی میں بھی کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تردید کرتی آئی ہے۔ مگر 'سول ڈیفنس' نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پرلکھا ہے کہ اس حملے کے نتیجے میں 80 افراد کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہے۔ اس بیان میں کسی شخص کی موت کی اطلاع نہیں دی گئی۔

برطانیہ میں قائم 'شامی رصد گاہ برائے انسانی حقوق کا کہنا ہے کہ طبی ذرائع کے مطابق علاقے میں سانس لینے میں دشواری کے 70 کیسز سامنے آئے ہیں۔

اقوام متحدہ اور کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام کے لئے کام کرنے والے بین الاقوامی ادارے کی ایک تحقیقات میں بھی سامنے آیا تھا کہ 2014 اور 2015ء میں شامی حکومت نے دو مختلف واقعات میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا تھا۔

شامی تنازعے کے دوران ڈھائی لاکھ سے زائد لوگ اپنی جانیں گنوا چکے ہیں جبکہ ایک کروڑ دس لاکھ افراد اپنے گھروں سے بے گھر ہونے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں