.

حوثی باغیوں کی عراقی ملیشیا''حشدالشعبی'' سے مدد کی درخواست

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حال ہی میں یمن کے حوثی باغیوں کے ایک اعلیٰ اختیاراتی سیاسی اور عسکری کارندوں پرمشتمل وفد کے دورہ عراق اور وہاں کی شیعہ ملیشیاؤں سے ملاقاتوں نے یمنی باغیوں اور عراقی ملیشیا کے درمیان باہمی تعاون کا بھانڈا پھوڑ دیا تھا۔ حوثیوں کے وفد کے دورہ عراق اور عراقی ملیشیا کےعناصر سے ملاقاتوں پر یمنی عوام کی طرف سے بھی شدید رد عمل کا اظہار کیا گیا تھا۔اب انکشاف ہوا ہے کہ بغداد کے دورے کے موقع پر حوثی وفد نے حشدالشعبی شیعہ ملیشیا سے عسکری شعبے میں معاونت کی درخواست کی ہے۔

العربیہ کے ذرائع کے مطابق یمن کےایران نواز حوثی باغیوں اور عراق کی شیعہ ملیشیا کے درمیان عسکری امداد، اسٹریٹیجک معاونت اور یمنی باغیوں کو جنگ کے لیے لاجسٹک سپورٹ مہیا کرنے کا غیرعلانیہ سمجھوتہ طے پایا ہے۔

حوثیوں اور عراقی ملیشیا کے درمیان طے پائے خفیہ سمجھوتے کے حوالے سے یہ انکشاف بھی ہوا کہ یمن میں پناہ لینے والے مصلوب صدر صدام حسین کی پارٹی کے ارکان اور سابق عراقی فوجیوں کو عراق کےحوالے کیا جائے گا۔ حالانکہ یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ یمن کے مںحرف سابق صدر علی عبداللہ صالح کی طرف سے پناہ فراہم کیے جانے کے بعد صدام حسین کے وفادار فوجی یمن میں علی صالح وفاداروں کو تربیت دیتے رہےہیں۔