شام میں ایران کا "سليمانی" میزائل اور بدستور بڑھتی ہلاکتیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کی جانب سے ایک نیا میزائل منظر عام پر لایا گیا ہے جس کو اس نے "سليمانی" کا نام دیا ہے۔ مذکورہ میزائل کو پہلی مرتبہ شام کے صوبے حُماہ میں شامی اپوزیشن فورسز کے خلاف حلب اور حُماہ میں پاسداران انقلاب کی بڑھتی ہوئی ہلاکتوں کے بیچ استعمال کیا گیا۔ یہاں مسلسل جھڑپوں کے دوران باسج ملیشیاؤں کے دو افسر اور ایک کمانڈر کے ہلاک ہونے کے علاوہ افغان ملیشیاؤں کے 3 ارکان بھی مارے گئے۔

پاسداران انقلاب کی قریبی نیوز ایجنسی "مشرق" کے مطابق زمین سے زمین تک مار کرنے والا یہ میزائل 500 کلوگرام وزنی ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پیر کے روز شام میں حُماہ کے نواحی علاقے میں اپوزیشن فورسز کے خلاف اس کو کامیابی سے داغا گیا۔

ایجنسی کے مطابق اس میزائل کو عراق میں "فيلق بدر" ملیشیاؤں کے زیر انتظام ٹیکنیکل شعبے کے انجینئروں نے ڈیزائن کیا ہے۔ اس ملیشیا کا شمار تہران نواز اہم ترین جماعتوں میں ہوتا ہے۔

دوسری جانب ایرانی میڈیا نے حلب میں منگل کے روز لڑائی میں پاسداران انقلاب کے دو افسران حسین علیخانی اور اکبر نظری اور باسج ملیشیاؤں کے ایک کمانڈر عادل سعد کے ہلاک ہونے کی خبر دی ہے۔ اس دوران افغان ملیشیا "فاطمی" کے تین جنگجو بھی مارے گئے جن کے نام مرتضی اکبری، مہدی قنبری اور محمود حسینی ہیں۔

اس سے قبل شامی جیش حُر نے گزشتہ جمعرات کے روز حُماہ کے شمالی نواح میں لڑائی کے دوران ایرانی پاسداران انقلاب کے جنرل دریوش درستی کی ہلاکت کا اعلان کیا تھا۔

اس طرح ایک ہفتے کے اندر شام میں ایران کے 5 افسران اور درجنوں فوجی اور ملیشیا ارکان مارے گئے۔ منگل کے روز حلب میں ایرانی پاسداران انقلاب کے جنرل احمد غلامی کے علاوہ ایک افسر مصطفى رشيد پور اور افغان اور پاکستانی ملیشیاؤں کے درجنوں جنگجوؤں کے مارے جانے کا اعلان کیا گیا۔

1

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں