حوثیوں کا نیا اقدام.. خواتین کے لیے خصوصی تربیتی عسکری کیمپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن میں باغی حوثی ملیشیاؤں نے ایک غیر مسبوق اقدام کرتے ہوئے خواتین کے لیے خصوصی تربیتی عسکری کیمپ کھولے ہیں جن سے ہزاروں خواتین اور لڑکیاں وابستہ ہو گئی ہیں۔ یہ نئی پیش رفت حوثیوں کی جانب سے ہزاروں بچوں کو بھرتی کر کے انہیں لڑائی کے محاذوں پر جھونک دینے کے بعد سامنے آئی ہے۔

باغی حوثیوں کی قیادت کے نزدیکی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ صنعاء کے ایک اسکول کے میدان میں خواتین کی عسکری پریڈ کا بھی انعقاد کیا گیا۔ پریڈ میں حوثیوں کی باغی تحریک کی ہمنوا سیکڑوں عورتوں اور لڑکیوں نے شرکت کی۔ باغیوں کی صفوں میں خواتین کی ملیشیائیں تشکیل دینے کا یہ پہلا انکشاف ہے۔

اسی طرح حوثی قیادت کے قریب سمجھے جانے والے اسامہ ساری نے صنعاء کے اسکول میں لڑکیوں کی عسکری پریڈ کی تصاویر جاری کی ہیں جن میں وہ بھاری ہتھیار اور آر پی جی گرینیڈز سے لیس نظر آرہی ہیں۔ ساری کے مطابق لڑکیوں کے لیے عسکری تربیت کے کیمپ متعدد صوبوں میں قائم کیے گئے ہیں۔

حوثیوں کے اس اقدام نے یمنی حلقوں میں سیع تنازع پیدا کر دیا ہے۔ اس وقت ملیشیاؤں کی جانب سے خواتین کی بھرتی کا سہارا لینا مرد جنگجوؤں کی قلت کا ثبوت ہے۔ واضح رہے کہ قبائلی سرداروں نے اپنے فرزندوں کو لڑائی کے محاذوں پر جھونکنے سے انکار کر دیا تھا جہاں ہونے والے معرکوں میں باغی ملیشیائیں اپنے ہزاروں جنگجوؤں سے ہاتھ دھو چکی ہیں۔

بعض حلقوں کا خیال ہے کہ خواتین اور لڑکیوں کی بھرتی کے انکشاف کا مقصد قبائل کو اس امر پر اکسانا ہے کہ وہ اپنے فرزندوں کو لڑائی کے محاذوں پر بھیجیں۔ گویا کہ یہ اقدام ملیشیاؤں کا مورال بلند کرنے کے لیے ہے بالخصوص جب کہ اکثر قبائل نے سرکاری فوج کے خلاف باغیوں کی لڑائی میں شامل کرنے سے انکار کر دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں