صراوح میں تزویراتی ٹھکانوں پر یمنی فوج کا کنٹرول

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمنی دارالحکومت صنعاء میں عوامی مزاحمت کاروں کے ترجمان عبدالله الشندقی نے تصدیق کی ہے کہ مارب صوبے کے شہر صراوح میں لڑائی کے دوران حوثی اور معزول علی صالح کی ملیشیاؤں کے تقریبا 35 جنگجو مارے گئے۔

ترجمان کے مطابق سرکاری فوجی اور عوامی مزاحمت کاروں نے متعدد پہاڑوں اور تزویراتی ٹھکانوں پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

دوسری جانب سیاسی طور پر حوثی ذرائع نے بتایا ہے کہ مسقط میں باغیوں کے نمائندوں سے ملاقات کے دوران اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد الشیخ احمد نے کوئی نئی چیز نہیں پیش کی۔

یمنی سرکاری فوج اور عوامی مزاحمت کار عرب اتحادی افواج کی سپورٹ کے ساتھ صراوح کو مکمل طور آزاد کرانے اور خولان کےعلاقے میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ادھر نہم کے محاذ پر سرکاری فوج نے صنعاء اور مارب کے درمیان مرکزی لائن کو منقطع کر دیا ہے اور وہ وادی محلی پر کنٹرول حاصل کرنے کی جانب بڑھ رہی ہے۔

تعز میں شدید جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس دوران باغی ملیشیاؤں کی جانب سے رہائشی علاقوں پر بم باری کے نتیجے میں متعدد شہری زخمی ہو گئے۔ بم باری میں توپ کے گولوں اور مارٹر گولوں کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔ علاوہ ازیں تعز صوبے کے مشرقی محاذ پر بھی لڑائی پھوٹ پڑی ہے۔

سیاسی میدان میں یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی نے سعودی دارالحکومت ریاض میں یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی سے ملاقات کی۔ ملاقات میں ہادی نے ایک بار پھر اس موقف کو دہرایا کہ آئینی حکومت متفقہ مراجع کی روشنی میں یمن میں امن کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہی ہے۔

حوثی ملیشیاؤں کے سرکاری ترجمان محمد عبدالسلام کے مطابق باغیوں کے وفد نے مسقط میں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات عمانی وساطت کاری کا نتیجہ تھی۔ حوثیوں کے زیرانتظام ذرائع ابلاغ نے بتایا ہے کہ ولد الشیخ نے اس اجلاس میں کوئی نئی بات پیش نہیں کی۔ انہوں نے خصوصی ایلچی پر الزام لگایا کہ وہ حکومت کی جانب جھکاؤ کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں