.

گولان کی چوٹیوں پر گولہ گرنے کے بعد اسرائیل کی شامی علاقے پر بمباری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کے ایک لڑاکا طیارے نے گولان کی چوٹیوں پر ایک گولہ گرنے کے بعد شامی علاقے پر بمباری کی ہے۔اسرائیلی فوج کا گذشتہ پانچ روز میں شامی علاقے پر یہ دوسرا فضائی حملہ ہے۔

اسرائیلی فوج نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ گولان کی چوٹیوں پر گولہ گرنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے اور اسرائیلی فورسز نے شام میں گولان کی چوٹیوں کے شمالی حصے میں شامی مسلح افواج کے راکٹ لانچروں کو حملے میں نشانہ بنایا ہے۔

اسی علاقے کے نزدیک شامی فوج اور باغیوں کے درمیان لڑائی جاری ہے۔ماضی میں بھی شامی علاقے سے لڑائی کے دوران چلنے والے مارٹر گولے اسرائیل کے زیر قبضہ گولان کی چوٹیوں پر گرتے رہے ہیں اور اسرائیل ان کے ردعمل میں شامی علاقے پر فضائی بمباری یا توپ خانے سے گولہ باری کرتا رہا ہے۔

اسرائیلی فوج نے گذشتہ اتوار کے روز گولان کی چوٹیوں پر متعدد گولے گرنے کے بعد شامی حزب اختلاف کے ٹھکانے کو فضائی حملے میں نشانہ بنایا تھا۔

یاد رہے کہ اسرائیل نے پڑوسی ملک شام کے گولان کی چوٹیوں کے بارہ سو مربع کلومیٹر علاقے پر 1967ء کی چھے روزہ جنگ میں قبضہ کر لیا تھا اور چودہ سال کے بعد 1981ء میں اس کو صہیونی ریاست میں ضم کر لیا تھا لیکن عالمی برادری اس کے گولان کی چوٹیوں پر قبضے کو تسلیم نہیں کرتی ہے۔