.

ایران : ایک ماہ میں 37 قیدی تختہ دار پر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق حکام نے گزشتہ ماہ اگست کے دوران کم از کم 37 قیدیوں کو پھانسی دی ہے۔

اتنی کثیر تعداد میں سزائے موت دیے جانے پر ہونے والی بین الاقوامی تنقید کے جواب میں ایران میں عدلیہ کے معاون اور عدلیہ میں انسانی حقوق کی کمیٹی کے ذمہ دار محمد جواد لاریجانی کا کہنا ہے کہ "عالمی برادری پر لازم ہے کہ وہ ان پھانسیوں پر ایران کا شکریہ ادا کرے کیوں کہ ان میں زیادہ تر منشیات سے متعلق جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کے خلاف ہوتی ہیں"۔

لاریجانی کا یہ بیان ایران میں انسانی حقوق کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے احمد شہید کی تنقید کے جواب میں سامنے آیا ہے ، شہید کے تقرر کی مدت آئندہ ماہ اختتام پذیر ہو رہی ہے۔ اقوام متحدہ نے ان کی جگہ انسانی حقوق کی پاکستانی کارکن اور ایڈوکیٹ عاصمہ جہانگیر کو نامزد کیا ہے۔اقوام

احمد شہید مالدیپ کے سابق وزیر خارجہ رہ چکے ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ میں 2011 سے اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ شہید نے ایرانی حکام کے ہاتھوں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو منظرعام پر لانے میں اہم کردار ادا کیا۔

احمد شہید نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ "یہ بات افسوس ناک ہے کہ ایرانی حکومت نے ایسے جرائم پر سزائے موت دینے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے جو بین الاقوامی قانون بالخصوص شہری اور سیاسی حقوق سے متعلق خصوصی بین الاقوامی معاہدے کے مطابق شدید خطرناک جرائم کی ادنی سطح کو بھی نہیں چھوتے ہیں جب کہ ایران اس معاہدے کا ایک فریق شمار کیا جاتا ہے"۔

اقوام متحدہ کے نمائندے نے اپنے بیان میں ایران میں سزائے موت پر عمل درامد جاری رہنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ایرانی حکومت میں بہت سے ذمہ داران نے اقرار کیا ہے کہ سزائے موت منشیات سے متعلق جرائم پر روک لگانے کے لیے مؤثر ثابت نہیں ہوئی۔

دوسری جانب لاریجانی کا کہنا ہے کہ ایران اپنے قوانین کے مطابق منشیات کی اسمگلنگ میں بنیادی کردار ادا کرنے والوں کے خلاف سخت ترین سزا جاری کرتا ہے۔ یہ سزا عمر قید یا سزائے موت ہو سکتی ہے۔

ميزان نیوز ایجنسی نے لاریجانی کے حوالے سے بتایا ہے کہ "احمد شہید اور یورپی ممالک کو ایران کا شکریہ ادا کرنا چاہیے کہ وہ افغانستان سے پیرس، برلن اور واشنگٹن کا رخ کرنے والی منشیات کو روکتا ہے"۔

ایران میں انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اس وقت ایرانی جیلوں میں کم از کم 5 ہزار افراد موت کی سزا کا انتظار کر رہے ہیں جن میں تقریبا 300 سیاسی قیدی ہیں۔