.

عراقی حجاج کے بیچ ایرانی ملیشیاؤں کو ُگھسانے کی کوشش ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی سکیورٹی ذریعے نے انکشاف کیا ہے کہ عراقی سکیورٹی فورسز نے ایرانی پاسداران انقلاب کے زیر انتظام عراقی اور لبنانی ملیشیاؤں کے ارکان کو گرفتار کیا ہے جنہوں نے جعلی پاسپورٹوں کے ذریعے عراقی حجاج کی صفوں میں دراندازی کی کوشش کی۔

عربی روزنامے "الشرق الاوسط" سے گفتگو کرتے ہوئے عراقی سکیورٹی ذریعے نے بتایا کہ عراق کے حجاج کی صفوں میں ملیشیاؤں کے 100 سے زیادہ ارکان ہیں۔ یہ لوگ لبنانی دہشت گرد تنظیم حزب اللہ کے ارکان اور پاسداران انقلاب کے ایرانی اہل کار ہیں جو عراق میں ایرانی انٹیلجنس کے اداروں میں کام کرتے ہیں۔

سعودی عرب روانہ ہونے والے عراقی حجاج میں ایران کی جانب سے اپنے عناصر کو داخل کرنے کا مقصد حج کے دوران تہران کے تخریبی منصوبوں پر عمل درامد ہے۔ یہ پیش رفت ایران کی جانب سے حج کو سیاست سے جوڑنے کی کوششوں میں ناکامی کا منہ دیکھنے کے بعد سامنے آئی ہے۔ اس معاملے میں ایران کو منہ کی کھانی پڑی جس کے بعد اس کے مرشد اعلی علی خامنہ ای نے آپے سے باہر ہو کر مسلسل دو روز تک ہسٹریائی بیانات دیے۔ ان بیانات سے اندازہ ہوتا ہے کہ تہران اپنی خطرناک سازشوں کے ناکام بنا دیے جانے پر کس طرح بوکھلاہٹ اور کھسیانے پن کا شکار ہے۔

عراقی سکیورٹی ذریعے نے انکشاف کیا کہ "لبنانی حزب اللہ ، عراقی حزب اللہ ، الخراسان بریگیڈز اور ایران کے براہ راست زیر انتظام العباس بریگیڈز کے عناصر کی جعلی ناموں اور جعلی پاسپورٹوں کے ساتھ عراقی حجاج کرام کی فہرستوں میں موجودگی کی مصدقہ معلومات موصول ہوئی ہیں۔ ان عناصر کی تعداد سو کے قریب ہے اور ان کو عراق سے باہر جانے سے روک دیا گیا ہے"۔

عراقی ذریعے کے مطابق " گرفتار کیے جانے والے بعض ارکان نے بتایا ہے کہ انہیں حج سیزن کے دوران مشکلات کھڑی کرنے اور بدامنی پیدا کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ اس کا یقینی طور پر عراق اور عراقی حجاج کے حوالے سے منفی اثر پڑنا تھا۔ اس طرح سعودی عرب کے ساتھ ہمارے تعلقات خراب ہوجاتے اور ایران اسی کے واسطے کوشاں ہے"۔

ایران کی جانب سے حج کے دوران شورش کے واقعات کی یہ تخریبی کوششیں سعودی عرب کی جانب سے ایران کے ُان تمام منصوبوں کو خاک میں ملا دینے کے بعد سامنے آ رہی ہیں.. جن کا مقصد حج کو سیاست سے آلودہ کرنا اور اس عظیم عبادت کے دوران انارکی ، شورشیں اور فتنے پھیلانا ہے۔ سعودی عرب نے تہران میں ولایت فقیہہ کے نظام کی کوششوں کو بھرپور عزم کے ساتھ قطعی طور پر مسترد کر دیا جو سیاسی شرائط اور مناسک حج سے غیرمتعلق روایات اور رسموں کو داخل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اسی طرح ریاض نے ایران کی ان شرائط کو بھی مسترد کردیا جن کا نتیجہ حج کے موقع پر بدمزگی پیدا کرنے والی فرقہ وارانہ اور مسلکی خلیجوں کی صورت میں سامنے آنا تھا۔ اس طرح حج کے سیزن سے فائدہ اٹھا کر خمینی انقلاب کی پالیسی کو برآمد کرنے کا کام لیا جانا تھا۔

جب ایران رواں سال حج کو سیاست سے نتھی کرنے کے لیے اپنے تمام تر وسائل میں ناکام ہوگیا تو اس نے اپنے شہریوں کو اس فریضے کی ادائیگی سے روک دیا۔ ادھر سعودی عرب نے دنیا بھر سے مکہ مکرمہ آنے والے ایرانیوں کے لیے مملکت کے دروازے کھول دیے۔ سعودی عرب کے اس اقدام کو اسلامی دنیا کی رائے عامہ میں وسیع پذیرائی حاصل ہوئی۔