ایرانی میڈیا میں سعودی عرب کی خبر عمرو موسی نے جھوٹی قرار دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عرب لیگ کے سابق سکریٹری جنرل عمرو موسی کے میڈیا بیورو نے ایران کے زیر انتظام اخبارات اور ویب سائٹوں کی اس من گھڑت خبر کی تردید کر دی ہے جس میں دعوی کیا گیا تھا کہ عمرو موسی نے سعودی عرب اور عرب اتحاد میں شامل ممالک پر کڑی نکتہ چینی کی ہے۔

جمعے کے روز جاری بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ "عمرو موسی ان دنوں ایک بین الاقوامی کانفرنس کے سلسلے میں سوئٹزرلینڈ میں شریک ہیں اور انہوں نے کوئی اخباری بیان نہیں دیا۔ اس حوالے سے پھیلائی گئی تمام تر خبریں جھوٹی اور بے بنیاد ہیں۔ عرب ممالک کے حوالے سے عمرو موسی کے مواقف واضح اور معروف ہیں اور ان میں کسی ابہام کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

سوڈان نے ایرانی مرشد اعلی علی خامنہ ای کے بیان کو اشتعال انگیز اور معاندانہ قرار دیتے ہوئے اس کی سخت مذمت کی ہے۔

سوڈانی وزارت خارجہ نے ایک سرکاری بیان میں کہا ہے کہ مرشد اعلی نے برادر ملک سعودی عرب اور اس کی قیادت کو جن عبارتوں کے ساتھ تنقید کا نشانہ بنایا وہ کسی اسلامی ریاست کے سربراہ کو زیب نہیں دیتی ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بیان خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی قیادت میں مملکت کی جانب سے اسلام اور مسلمانوں کے لیے بالخصوص حجاج کرام اور معتمرین کے لیے خصوصی خدمات کے حوالے سے اسلامی دنیا کے خراج تحسین سے کسی طور میل نہیں رکھتا ہے۔

بیان میں ایرانی مرشد اعلی کی جانب سے حرمین شریفین کے انتظامی امور بین الاقوامی کمیٹی کے ہاتھوں میں دینے کے مطالبے کی بھی مذمت کی گئی۔

خرطوم نے حج کے امور کے انتظام کے سلسلے میں سعودی عرب کی حکومت کے لیے اپنی مکمل سپورٹ اور معاونت کا یقین دلاتے ہوئے کسی بھی بیرونی مداخلت اور فرقہ وارانہ مقاصد کے لیے حج کو سیاست سے آلودہ کرنے کی کوشش کو مسترد کردیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں