.

شام : ادلب میں فضائی حملوں میں 24 ہلاکتیں

اعلانِ جنگ بندی کے باوجود لڑاکا طیاروں کی بمباری سے متعدد عمارتیں ،دکانیں اور کاریں تباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شمال مغربی شہر ادلب میں ہفتے کے روز باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں اور ایک مارکیٹ پر فضائی حملوں میں چوبیس افراد ہلاک اور کم سے کم نوّے زخمی ہوگئے ہیں۔ یہ فضائی حملے امریکا اور روس کے درمیان شام میں جنگ بندی پر اتفاق رائے کے ایک روز بعد کیے گئے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق کی اطلاع کے مطابق لڑاکا طیاروں نے ادلب میں متعدد علاقوں کو نشانہ بنایا ہے لیکن فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ یہ فضائی حملے کس نے کیے ہیں۔

رصدگاہ کا کہنا ہے کہ تباہ کن بمباری کے نتیجے میں بعض لاشیں جل جانے سے ناقابل شناخت ہوگئی ہیں۔ادلب میں موجود اے ایف پی کے فوٹو گرافر نے اطلاع دی ہے کہ سینڈل اور سلیپر پہنے لوگ امدادی سرگرمیوں میں مصروف تھے اور وہ تباہ شدہ عمارت کے ملبے سے مکینوں اور بچوں کو نکال رہے تھے۔فضائی بمباری میں متعدد دکانیں اور کاریں تباہ ہوگئی ہیں۔

قبل ازیں جنیوا میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور ان کے روسی ہم منصب سرگئی لاروف نے کئی گھنٹے کی بات چیت کے بعد شام میں متحارب فریقوں کے درمیان جنگ بندی سے اتفاق کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اس کا آغاز سوموار کو عید الاضحیٰ کے پہلے روز سے ہوگا۔

اگر اس جنگ بندی پر عمل درآمد ہوتا ہے تو شام کی مسلح افواج باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں پر حملے روک دیں گی اور جنگ زدہ علاقوں تک انسانی امداد بہم پہنچانے کی اجازت دی جائے گی۔

اقوام متحدہ کے تحقیقات کاروں نے گذشتہ ہفتے یہ کہا تھا شام کی مسلح افواج اور ان کے اتحادی روس کے لڑاکا طیاروں کی ادلب اور حلب میں بمباری سے بڑے پیمانے پر شہریوں کی ہلاکتیں ہورہی ہیں اور انفرااسٹرکچر تباہ ہورہا ہے۔واضح رہے کہ 2015ء کے وسط سے ادلب کے بیشتر علاقوں پر شامی باغیوں اور جہادی گروپوں پر مشتمل اتحاد جیش الفتح کا قبضہ ہے۔