.

"مجاہدین خلق" تنظیم مکمل طور عراق سے یورپ کوچ کر گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ اور ایرانی مزاحمت کی قومی کونسل نے اعلان کیا ہے کہ بغداد کے قریب "لبرٹی" کیمپ میں مقیم ایرانی حزب اختلاف کی آخری کھیپ بھی جمعے کے روز عراق سے یورپ روانہ ہو گئی ہے۔

ایرانی اپوزیشن کی تحریک نے ایک بیان میں بتایا کہ "لبرٹی میں قیام پذیر افراد کا آخری گروپ جو 280 سے زیادہ افراد پر مشتمل تھا ، بغداد سے البانیہ روانہ ہوگیا"۔

تحریک نے کوچ کی کارروائی مکمل ہونے پر اپنے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ "اگرچہ (ایرانی) مُلائی نظام کی جانب سے منتقلی کے آخری روز تک سازشوں ، رکاوٹوں اور مسلسل دھمکیوں کا سلسلہ جاری رہا تاہم مجاہدین خلق کی نقل مکانی کا منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچ گیا "۔

بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے نزدیک واقع "لبرٹی" کیمپ میں 2011 سے "ایرانی مزاحمت کی قومی کونسل" کے سیکڑوں کارکنان مقیم تھے۔ "مجاہدین خلق" تنظیم 1965ء میں شاہ ایران کی حکومت کے سقوط کے مقصد سے بنائی گئی تھی۔ تاہم گزشتہ صدی میں 80ء کی دہائی میں اس کو ایران سے بے دخل کر دیا گیا جس کے بعد تنظیم کے ارکان نے عراق میں مستقل پڑاؤ ڈال لیا۔

ادھر اقوام متحدہ کے ترجمان وليم اسپینڈلر کا کہنا ہے کہ "عالمی برادری کیمپ کی تمام آبادی کو دیگر ممالک منتقل کرنے میں کامیاب ہو گئی"۔

کیمپ کو متعدد بار حملوں کا نشانہ بنایا گیا جن میں شدید ترین کارروائی اکتوبر 2015 میں کی گئی جس کے نتیجے میں 20 سے زیادہ افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔

"مجاہدین خلق" کے ارکان نے ایران عراق جنگ (1980-1988) کے دوران صدام حسین کی حکومت کی سپورٹ سے ابتدا میں بغداد کے شمال میں واقع اشرف کیمپ میں قیام کیا تھا۔

2003 میں عراق پر امریکی حملے کے بعد ان سے اسلحہ لے لیا گیا اور ایران کے قریب ہو جانے والی عراقی حکومت نے ان کو بے دخل کرنے کی کوششیں شروع کر دیں۔

2012 میں امریکا نے "ایرانی مزاحمت کی قومی کونسل" کا نام دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے خارج کر دیا جب کہ دیگر مغربی ممالک نے اس کے ارکان کی دوبارہ آبادکاری میں مدد کا وعدہ کیا۔