.

ایران : سرکاری میڈیا کی جعل سازی اور اسکینڈل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی نظام کا یہ شیوہ بن چکا ہے کہ وہ جھوٹی اور من گھڑت خبریں اور اور انٹرویو تیار کر کے انہیں سرکاری اور غیر سرکاری ذمہ داروں کے ساتھ منسوب کر دیتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ ایسے اداروں کے بارے میں فرضی رپورٹیں بھی جاری کرتا ہے جن کا بعض مرتبہ وجود ہی نہیں ہوتا۔ اب کی بار اس جعل سازی نے عرب لیگ کے سابق سکریٹری جنرل عمرو موسی کو لپیٹ میں لے لیا جو ایرانی سرکاری نیوز ایجنسی إرنا" کی گھڑی ہوئی رپورٹ کا نشانہ بنے۔

دوسری جانب عمرو موسی کے میڈیا بیورو نے ایران کے زیر انتظام اخبارات اور ویب سائٹ کی ان رپورٹوں کی تردید کر دی جن میں کہا گیا تھا کہ عمرو موسی نے سعودی عرب اور عرب اتحاد میں شامل ممالک کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

اس سے پہلے 2012 میں ایرانی سرکاری میڈیا نے تہران میں منعقدہ ایک کانفرنس میں مصر کے معزول صدر محمد مرسی کے براہ راست خطاب کے دوران نشر ہونے والے فارسی زبان کے ترجمے میں بہار عرب کے انقلاب میں شامل ممالک میں بحرین کے نام کا اضافہ کر دیا تھا جب کہ خطاب سے خلفاء راشدین کے نام ابوبكر ، عمر ، عثمان اور علی رضی اللہ عنہم کے ناموں کو حذف کر دیا گیا تھا۔

اس کے علاوہ ایرانی میڈیا شام کے حوالے سے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون اور جنرل اسمبلی کے سربراہ ناصر عبدالعزيز کے خطابات میں بھی تحریف کر چکا ہے۔

ایرانی میڈیا تسلسل کے ساتھ عرب عوام اور حکومتوں کو سب و شتم کا نشانہ بناتا ہے۔ بالخصوص وہ خلیجی عرب ممالک کے حوالے سے جھوٹی خبریں نشر کرتا ہے۔

ایرانی امور کے مبصرین کا کہنا ہے کہ ایرانی نظام یا پاسداران انقلاب کے زیرانتظام سرکاری میڈیا درحقیقت ایران کی پالیسیوں سے اختلاف کرنے والے ہر ملک اور اس کے عوام کے خلاف الزام تراشی ، اعلانیہ اہانت ، اخلاقی پستی ، جعل سازی ، جھوٹ اور من گھڑت پروپیگنڈے کا میدان بن چکا ہے۔ یہ روش تمام تر بین الاقوامی معاہدوں ، منشوروں ، سفارتی آداب اور پیشہ وارانہ دیانت داری کے یکسر خلاف ہے۔