.

"خانہ كعبہ" پر سب سے پہلے کس نے غلاف چڑھایا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

"خانہ کعبہ" کا غلاف جس کو کسوہ کہا جاتا ہے اس کو تبدیل کرنے کی ایک پرانی معروف تاریخ ہے۔ کعبے کو زمانہ جاہلیت میں غلاف سے ڈھانپا گیا اور پھر یہ سلسلہ اسلام کے آنے کے بعد بھی جاری رہا۔

کسوہ کوئی کعبے کا احرام نہیں ہے کیوں کہ بیت اللہ جان دار نہیں ہے اور کسی قسم کے مناسک ادا نہیں کرتا ہے۔ درحقیقت مسلمان اللہ عزوجل کی بندگی کرتے ہوئے کعبے کو کسوہ سے آراستہ کرتے ہیں۔ اس طرح باہمی طور دلوں کے درمیان الفت و محبت پیدا کرنے کے لیے اس کو قبلہ بنائے جانے پر شکر بھی ادا کیا جاتا ہے۔

زمانہ جاہلیت میں کعبے کا کسوہ کسی خاص طرز کا نہیں ہوتا تھا۔ وہ کئی رنگوں پر مشتمل ہوتا تھا اور چمڑے اور کپڑے سے بنا ہوتا تھا۔ الواقدی نے ابراہیم بن ابو ربیعہ کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ "زمانہ جاہلیت میں بیت اللہ کو چمڑوں کے غلاف سے ڈھانپا گیا "۔

جہاں تک زمانہ اسلام کا تعلق ہے تو اس میں سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبے پر یمنی کپڑے کا غلاف چڑھایا۔ اسی طرح ابو بکر ، عمر ، عثمان ، معاویہ اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہمم نے سفید اور سرخ دھاری والے یمنی کپڑے کا استعمال کیا۔ بعد ازاں حجاج بن یوسف نے عبدالملک بن مروان کے دور میں کعبے پر کمخواب کا غلاف چڑھایا۔ مامون الرشید کے دور میں کعبے پر سال میں تین مرتبہ تین مختلف رنگوں کا غلاف چڑھایا جاتا۔

کعبے کو سیاہ رنگ کے کمخواب کا غلاف سب سے پہلے خلیفہ الناصر العباسي (متوفى 622هـ) نے چڑھایا۔ اس نے پہلے کعبے کو سبز کمخواب کے غلاف سے آراستہ کیا اور پھر سیاہ کمخواب کا استعمال کیا اور یہ ہی سیاہ رنگ آج تک چلا آ رہا ہے۔

سب سے پہلے غلاف کس نے چڑھایا ؟

رسول کریم علیہ الصلات والسلام کی ایک روایت میں حمیری قوم کے بادشاہ تُبَّع پر سب وشتم سے منع فرمایا گیا ہے۔ اس روایت کو امام احمد بن حنبل رحمت اللہ علیہ نے اپنی مسند میں شامل کیا ہے۔ تُبّع وہ پہلا شخص تھا جس نے خانہ کعبہ پر پورا غلاف چڑھایا۔ اس نے غلاف کسوہ کے لیے مختلف قسم کا کپڑا استعمال کیا۔ اس کے علاوہ کعبے کا دروازہ بنایا اور کنجی تیار کی۔ بعد ازاں اس کے جانشینوں نے بھی کعبے کو کسوہ سے آراستہ کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔

سیرت نگاروں کی نقل کردہ ایک روایت میں آیا ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے سب سے پہلے خانہ کعبہ پر غلاف چڑھایا۔ اس کے بعد کئی نسلیں اور صدیاں گزر جانے کے بعد بھی خانہ کعبہ قائم ہے تاہم جہاں تک کسوہ کا تعلق ہے تو اس حوالے سے تاریخ کے صفحات ہمیں خالی نظر آتے ہیں یہاں تک کہ عدنان (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جد امجد) کا دور آ جاتا ہے۔ ایک روایت یہ بھی آتی ہے کہ عدنان نے سب سے پہلے کعبے کو کسوہ سے آراستہ کیا۔

حج کے موقع پر غلاف کعبہ کو زمین سے اونچا کر دینے کا جو رواج ہے اس کا مقصد بعض حجاج اور معتمرین کی جانب سے غلاف کے کپڑے کو برکت کی نیت سے کاٹ لینے سے بچانا ہوتا ہے۔

سال 1346 هـ یعنی 1926ء میں مملکت کے بانی شاہ عبدالعزیز آل سعود نے خانہ کعبہ کے کسوہ کی تیاری کے لیے مختص ُام القریٰ کارخانے کی تعمیر کا فرمان جاری کیا۔

خانہ کعبہ کا بیرونی غلاف یعنی کسوہ ہر سال 9 ذوالحجہ کو تبدیل کیا جاتا ہے۔ یہ ریشم ، کاٹن ، اور سونے چاندی کے تاروں سے تیار کیا جاتا ہے۔ کسوہ کی بلندی 14 میٹر ہوتی ہے۔ اوپر کے ایک تہائی حصے میں بیلٹ موجود ہوتی ہے جس کی چوڑائی 95 سینٹی میٹر اور لمبائی 47 میٹر ہوتی ہے۔ بیلٹ کے نیچے آیات قرآنی موجود ہوتی ہیں۔ یہ تمام علاحدہ فریموں میں تحریر ہوتی ہیں۔ درمیانی خلاؤں کے بیچ قندیل کی شکل کے اندر "يا حي يا قيوم، يا رحمن يا رحيم، الحمد لله رب العالمين" تحریر ہوتا ہے۔ بیلٹ پر بہت نمایاں طور پر کڑھائی کی جاتی ہے اور یہ چاندی کے تاروں سے بھری ہوتی ہے جس پر سونے کا پانی چڑھا ہوتا ہے اور پورے خانہ کعبہ کا احاطہ کرتی ہے۔ کسوہ میں کعبے کے دروازے کا پردہ شامل ہوتا ہے۔ ریشم سے تیار کیا گیا یہ پردہ 6.5 میٹر بلند اور 3.5 میٹر چوڑا ہوتا ہے۔ اس پر قرآنی آیات تحریر ہوتی ہیں اور اسلامی نقش ونگار منقش ہوتے ہیں۔

خانہ کعبہ کا کسوہ پانچ حصوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ ہر حصہ کعبے کی ایک سمت کو ڈھانپ لیتا ہے جب کہ پانچواں حصہ وہ پردہ ہوتا ہے جو کعبے کے دروازے پر لگایا جاتا ہے۔ ان تمام حصوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ملایا گیا ہوتا ہے۔