ایران: بحریہ کا دوسرا کمانڈر پراسرار طور پر ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایرانی فوج نے اتوار کے روز غلام رضا شیرانی کی تدفین کی جو جاسک کے علاقے میں بحریہ کی فورس کا کمانڈر تھا، فوجی بیان کے مطابق وہ ایک عسکری مشن کے دوران مارا گیا۔ یہ ایرانی بحریہ کا دوسرا کمانڈر ہے جو پراسرار حالات میں ہلاک ہوا ہے۔ اس سے قبل پاسداران انقلاب کے زیر انتظام بحری میرینز کی اسپیشل فورسز کے یونٹ کا کمانڈر محمد ناظری بھی مئی میں پراسرار طور پر جان سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا۔

ایرانی فوج کی جانب سے جاری بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ شیرانی اپنے مشن کے دوران ہلاک ہوا تاہم مشن کی نوعیت اور ہلاکت کے مقام کے بارے میں نہیں بتایا گیا جب کہ اپوزیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ افسر ایران کے باہر مشن سرانجام دیتے ہوئے مارا گیا ہے۔

بیان کے مطابق شیرانی نے ایران کے مشرق میں مکران کے ساحلوں میں بین الاقوامی پانی میں آمد و رفت اور جہاز رانی کے راستوں کے تحفظ کی ذمہ داری سنبھالی ہوئی تھی جو پاکستان کے مغرب تک پھیلا ہوا ہے اور بحر عرب تک جا پہنچتا ہے۔

شیرانی کی تدفین اصفہان شہر میں عمل میں آئی۔ اس موقع پر فوجی قیادت کے متعدد اعلی اہل کار موجود تھے جن میں ایرانی فوج کا سربراہ جنرل عطاء اللہ صالحی اور ایرانی بحریہ کے افسران شامل ہیں۔

دوسری جانب روزنامہ "عصر ايران" کا کہنا ہے کہ شیرانی ایران کے جنوب مشرقی صوبے سیستان اور بلوچستان کا دورہ کرتے ہوئے مارا گیا جب کہ ایرانی اپوزیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکنڈ میرین ایریا کمانڈر شیرانی شام یا عراق میں ہلاک ہوا ہے۔

اس سے قبل ایران میں روا ں سال مئی میں پاسداران انقلاب کے زیر انتظام بحری میرینز کی اسپیشل فورسز کے یونٹ کے کمانڈر محمد ناظری کی تدفین عمل میٕں آئی تھی جو پراسرار انداز میں مارا گیا تھا۔ اس کی موت کی تفصیلات کے حوالے سے سرکاری بیانات میں کافی تضاد دیکھا گیا تھا۔ اس دوران وجوہات میں طبعی موت سے لے کر کیمیکل سے متاثر ہونے تک کے بیانات سامنے آئے تھے۔

ناظری کو پاسداران انقلاب کے ان عسکری قائدین میں سے جانا جاتا تھا جو چند سال قبل ایرانی پانی میں داخل ہونے والے برطانوی اور امریکی فوجیوں کو گرفتار کرنے کے آپریشن میں شامل تھے۔ علاوہ ازیں وہ 80ء کی دہائی میں ایران عراق جنگ میں بھی شریک رہا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں