بشارالاسد کا ''دہشت گردوں '' سے تمام شام واپس لینے کا عزم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شامی صدر بشارالاسد نے ''دہشت گردوں'' سے شام کے تمام علاقے واپس لینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے یہ نیا بیان امریکا اور روس کے درمیان جنگ بندی کے لیے طے شدہ سمجھوتے پر عمل درآمد کے آغاز سے چند گھنٹے قبل داغا ہے۔

شام کے سرکاری میڈیا کے مطابق بشارالاسد نے کہا: ''شامی ریاست دہشت گردوں کے زیر قبضہ تمام علاقے بازیاب کرانے کے لیے پُرعزم ہے۔مسلح افواج نے کسی تردد اور داخلی یا خارجی حالات سے قطع نظر ان تھک انداز میں اپنا کام جاری رکھا ہوا ہے''۔

بشارالاسد نے باغیوں ،مزاحمت کاروں اور حزب اختلاف کا ٹھٹھا اڑاتے ہوئے کہا کہ ''پانچ سال کے بعد بھی بعض لوگ ابھی تک اپنی خیالی دنیا سے نہیں نکلے ہیں۔بعض لوگ غیرملکی طاقتوں کے وعدوں پر جی رہے ہیں لیکن ان کا کچھ نتیجہ برآمد نہیں ہوگا''۔ وہ اپنے خلاف مارچ 2011ء میں پُرامن احتجاجی مظاہروں سے شروع ہونے والی تحریک کا حوالہ دے رہے تھے۔

انھوں نے یہ گفتگو باغیوں کے سابق مضبوط گڑھ اور اب حکومت کے زیر قبضہ شہر داریا میں عید الاضحیٰ کے موقع پر کی ہے۔وہ کئی مہینوں کے بعد پہلی مرتبہ کسی عوامی جگہ پر نمودار ہوئے ہیں۔شام کے سرکاری میڈیا نے انھیں مسجد سعد بن معاذ میں عید الاضحیٰ کی نماز ادا کرتے ہوئے دکھایا ہے۔

واضح رہے کہ شامی فوج نے کئی مہینے تک داریا کا محاصرہ کیے رکھا تھا،وہاں فوج اور باغیوں کے درمیان لڑائی جاری رہی تھی۔شامی فوج کی ناکا بندی کے بعد داریا کے مکین نان جویں کو ترس گئے تھے۔ باغیوں اور شامی حکومت کے درمیان اگست کے آخر میں ایک معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت باغی جنگجو اور باقی رہ جانے والے مکین شہر خالی کر گئے تھے۔اب شہر پر شامی حکومت کا کنٹرول ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں