شام : جنگ بندی کے بعد بیشتر علاقوں میں صورت حال پُرامن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکا اور روس کی ثالثی میں شام میں جنگ بندی کے لیے طے شدہ سمجھوتے پر مقامی وقت کے مطابق سوموار کی شام سات بجے ( 1600 جی ایم ٹی) سے عمل درآمد کا آغاز ہوگیا ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے اطلاع دی ہے کہ سیز فائر کے بعد سے شام میں تنازعات والے بڑے علاقوں میں صورت حال مجموعی طور پر پُرامن ہے۔البتہ ملک کے جنوب مغربی علاقے میں سرکاری فورسز اور باغیوں دونوں کی جانب سے گولہ باری کی اطلاع ملی ہے۔

اس جنگ بندی کا بعض جنگجو گروپوں کے زیر قبضہ علاقوں پر اطلاق نہیں ہوتا ہے۔شامی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کو مسلح گروپوں کی جانب سے کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں فیصلہ کن انداز میں جواب دینے کا حق حاصل ہے۔فوج نے یہ بھی کہا ہے کہ اس جنگ بندی کا تمام شام میں سات روز کے لیے اطلاق ہوگا۔

درایں اثناء مغرب کے حمایت شامی قومی اتحاد (ایس این سی) نے جنگ بندی کا خیرمقدم کیا ہے اور اس کو درست سمت کی جانب ایک درست قدم قرار دیا ہے لیکن ساتھ ہی صدر بشارالاسد کے رجیم پر زوردیا ہے کہ وہ شامیوں کو لاپتا کرنے کی کارروائیوں سے باز آجائے۔

حزب اختلاف کے اس گروپ نے جنگ بندی کے مشاہدے اور نگرانی کے لیے طریق کار وضع کرنے کی ضرورت پر بھی زوردیا ہے اور دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے جنگجو گروپ داعش کے خلاف لڑنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

قبل ازیں شامی حزب اختلاف کے بڑے مسلح گروپوں نے کہا کہ وہ جنگی کارروائیاں رکنے کے بعد ایک بیان جاری کریں گے۔ان گروپوں کے ایک ذریعے نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ شدید تحفظات کے باوجود جنگ بندی کی حمایت کا فیصلہ کر لیا گیا ہے اور ہم اس سے متفق ہیں۔

اس بیان کی احرارالشام سمیت تمام بڑے گروپ حمایت کریں گے۔واضح رہے کہ یہ گروپ اس جنگ بندی سمجھوتے پر کڑی تنقید کرتا رہا ہے۔اس کے تحت نو دن تک اگر امن برقرار رہتا ہے تو شامی فضائیہ کو خاموش رہنے کے لیے کہہ دیا جائے گا اور امریکا اور روس جنگ بندی میں شامل نہ کیے جانے والے جنگجو گروپوں کے خلاف مشترکہ فضائی حملے کریں گے۔ان میں داعش اور جبھہ فتح الشام بھی شامل ہیں اور ان پر جنگ بندی کا اطلاق نہیں ہوتا ہے۔

حزب اختلاف کے ذریعے کا کہنا ہے کہ ''فتح الشام کو ہدف بنایا جانا اور ایران کی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا سے مختلف برتاؤ اور ہم سے ایک ایسے پیکج سے اتفاق کی توقع جس کے تحت بمباری کی جائے گی تو اس سے بہت سے داخلی مسائل پیدا ہوں گے،برسرزمین پہلے ہی سب کچھ ہورہا ہے اور بہت زیادہ کشیدگی پائی جارہی ہے۔اس لیے ہم فتح الشام کو فضائی حملوں میں نشانہ بنائے جانے کی حمایت نہیں کریں گے''۔

شامی کرد ملیشیا وائی پی جی نے امریکا اور روس کے درمیان طے شدہ ڈیل کے تحت سوموار کی شام سے جنگی کارروائیاں روکنے کا اعلان کیا ہے اور اس امید کا اظہار کیا ہے کہ اب داعش کے خلاف جنگ پر توجہ مرکوز کی جائے گی اور ملک میں سیاسی انتقال اقتدار کے لیے سازگار حالات پیدا کیے جائیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں