.

تین شہید فلسطینی بیٹوں کے دوست باپ حج پر جمع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حج جہاں ایک مذہبی فریضہ ہے وہیں یہ سماجی طور منتشر فلسطینیوں اور ایک دوسرے سے بچھڑے دوستوں کو باہم جوڑنے کا ایک بہترین ذریعہ بھی ثابت ہو رہا ہے۔ حالیہ حج کے موقع پر ایسے کئی فلسطینی جو عرصے سے ایک دوسرے سے دور ہوچکے تھے حج نے انہیں ایک بار ایک دوسرے سے ملاقات کا موقع فراہم کیا۔ لبنان کے ایک پناہ گزین فلسطینی شہری کا غزہ کی پٹی میں مقیم اپنی ہمیشرہ سے سترہ سال بعد ملاقات کے بعد تین دیگرفلسطینی دوست بھی حج پر کافی دنوں بعد اکھٹے ہوئے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق فضل الخالدی، وجدی الرمحی اور محمود مبارک تینوں دوست ہیں اور تینوں کا تعلق مقبوضہ مغربی کنارے کے وسطی شہر رام اللہ میں قائم الجلزون پناہ گزین کیمپ سے ہے۔ تینوں باہم دوست ہونے کے ساتھ ساتھ اسرائیلی دہشت گردی کے نتیجے میں شہید ہونے والے تین بچوں کے والدین بھی ہیں۔ عجیب اتفاق ہے کہ ان تینوں کے شہید بیٹے بھی آپس میں دوست تھے۔

فضل الخالدی، وجدی الرمحی اور محمود مبارک کو خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی طرف سے شروع کی گئی فلسطینی شہداء اسیران کے ورثاء کے لیے خصوصی حج اسکیم کے تحت اس بارفریضہ حج کی ادائی کا موقع فراہم کیا گیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے نامہ نگار نے تینوں دوستوں سے منیٰ کے مقام پر ان کے خیمے میں ان سے ملاقات کی۔ تینوں دوست بہت خوش دکھائی دیتے ہیں۔ آپس میں مزاحیہ گفتگو کے ساتھ لطائف کا تبادلہ کرتے ہیں اور ماضی کی یادیں دہراتے ہیں مگراندر سے وہ اپنے شہید بیٹوں کے دکھ کو بھلا نہیں پائے ہیں۔ اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتاہے کہ بات چیت کرتے کرتے اچانک وہ خاموش ہوجاتے ہیں جیسے کسی گہری سوچ میں ڈوب گئے ہوں۔

فضل الخالدی کا کہنا ہے کہ پچھلے سال اسرائیلی فوج نے ریاستی دہشت گردی کے دوران ان کے پندرہ سالہ بیٹے لیث الخالدی کو گولیاں مارکر شہید کردیا۔ شہادت کے اس واقع میں دو دیگر فلسطینی بچے بھی شہید ہوئے۔

لیث کے والد اور ان کے دوست مشرقی رام اللہ میں سنہ 1948ء میں قائم کیے گئے الجلزون پناہ گزین کیمپ میں رہائش پذیر رہے ہیں۔ اس کیمپ میں آبادی 30 ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔ نصف کلو میٹر کےعلاقے میں آباد اس کیمپ سے اب تک 37 فلسطینی شہید کئے جا چکے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے الخالدی نے کہا کہ بیٹے کی شہادت نے ہماری زندگی ہی بدل ڈالی ہے۔ہمارا گھر ویران ہوچکا ہے۔

وجدی الرمحی نے کہا کہ بیٹے کی شہادت کے واقعے سے بڑھ کران کے لیے دکھ اور صدمے کا کوئی اور واقعہ نہیں تھا۔ اس واقعے نے ہمارے گھر کو جنہم بنا دیا۔ اس کے بیٹے کو اسرائیلی فوجیوں نے اس وقت گولیاں ماریں جب وہ اپنے دوستوں کے ہمراہ فٹ بال کھیل رہا تھا۔

محمود مبارک دوستوں میں اپنی ہنسی مزاح کے حوالے سے بہت مشہور ہیں مگر اس موقع پر وہ بھی گم سم دکھائی دیے۔ وہ جب سے مکہ مکرمہ حج کے لیے پہنچے تب سے اپنا زیادہ وقوت اپنی رہائش گاہ کے اندر ہی گذارتے ہیں۔ وہ بھی اپنے جواں سال بیٹے کے شہادت پر دکھی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ میں اور میرا بیٹا ہم کیمپ میں راستہ کھود رہے تھے کہ اسرائیلی فوج نے اسے گولیاں ماریں اور وہ شہید ہوگیا۔