شامی حزب اختلاف جنگ بندی سمجھوتے کے بارے میں غیر مطمئن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شامی حزب اختلاف کے ایک سرکردہ سیاست دان جارج صبرہ نے کہا ہے کہ انھیں امریکا اور روس کی ثالثی میں طے شدہ جنگ بندی کے بارے میں کوئی بہت زیادہ اعتماد نہیں ہے اور یہ اس سال کے اوائل میں ہونے والی جنگ بندی سے زیادہ دیر جاری نہیں رہے گی۔

انھوں نے برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز سے بدھ کے روز گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ فروری میں جس جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا،وہ چند ہفتے تک ہی جاری رہی تھی لیکن اس دوران بھی طرفین ایک دوسرے پر خلاف ورزیوں کے الزامات عاید کرتے رہے تھے۔

جارج صبرہ نے شامی حکومت پر الزام عاید کیا ہے کہ ''وہ امدادی سامان پر کنٹرول کے لیے اصرار کررہی ہے۔اس کا مقصد امدادی سامان کی تقسیم میں رکاوٹیں ڈالنا ہے اور یہ ہمارے لیے ناقابل قبول ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''امن مذاکرات کی بحالی کے بارے میں گفتگو قبل از وقت ہوگی اور اس کا انحصار گذشتہ سال اقوام متحدہ میں منظور کردہ انسانی امداد کی فراہمی سے متعلق قرارداد کے نفاذ پر ہے''۔ان کا کہنا تھا کہ امن مذاکرات کی بحالی کے لیے جو بھی تاریخیں دی جارہی ہیں ، وہ بالکل بھی سنجیدہ نہیں ہیں۔

جارج صبرہ کا کہنا تھا کہ امدادی ایجنسیوں کو متاثرہ علاقوں تک آزادانہ رسائی کی اجازت دینے سے سیاسی مذاکرات کی بحالی میں مدد مل سکتی ہے اور جنگ بندی کے استحکام سے سیاسی عمل کی بحالی کا دروازہ کھل سکتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس جنگ بندی کے برسرزمین نفاذ کی نگرانی کا کوئی میکانزم نہیں ہے۔اس کا خمیازہ اس سمجھوتے ہی کو بھگتنا پڑے گا۔اس کے علاوہ خلاف ورزیوں کے مرتکبین کو سزا دینے کا بھی کوئی نظام نہیں ہے''۔

اس جنگ بندی سمجھوتے پر گذشتہ جمعہ کو امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف کے درمیان کئی گھنٹے کے مذاکرات کے بعد اتفاق ہوا تھا اور اس پر شام میں عید الاضحیٰ کے پہلے روز سے عمل درآمد کیا جارہا ہے۔منگل اور بدھ کو مجموعی طور پر شام میں صورت حال پُرامن رہی ہے اور جنگ بندی کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزیوں کی اطلاعات سامنے نہیں آئی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں