.

لیبیا کا تیل صدارتی کونسل کی گرفت میں ہونا چاہیے : کوبلر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی مارٹن کوبلر نے لیبیا میں تیل کی تمام بندرگاہوں پر مکمل طور آئینی حکومت کی فورسز کے کنٹرول کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے یہ بات منگل کی شام لیبیا کے حوالے سے سلامتی کونسل کے ایک ہنگامی اجلاس میں کہی۔

کوبلر نے تمام فریقوں کے درمیان مکالمے اور قومی وفاق کی حکومت کی تشکیل کی ضرورت کو بھی باور کرایا جس میں نوجوانوں اور خواتین کا بھی کردار ہو۔ انہوں نے خبردار کیا کہ سیاسی خلیج کے سبب لیبیا ایک چوراہے کے منہ پر کھڑا ہے۔

کوبلر کا کہنا تھا کہ " مسدود راستے سے نکلنے کے لیے صدارتی کونسل اور ارکان پارلیمنٹ کی کونسل کے درمیان بات چیت ناگزیر ہے"۔

انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ " لیبیا میں لڑائی کی کارروائیاں فوری طور پر بند کی جائیں اور تیل کی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کیا جائے۔ تیل کی تمام تنصیبات پر صدارتی کونسل کے کنٹرول کے بغیر کوئی چارہ کار نہیں جس کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے"۔

اس کے علاوہ کوبلر نے خبردار کیا کہ " تنازعات کی وجہ سے لیبیا مالی طور پر دیوالیہ ہونے کے دہانے پر ہے"۔

سلامتی کونسل کا یہ اجلاس امریکا اور پانچ یورپی ممالک کی جانب سے لیبیا میں تیل کی بندرگاہوں سے فوج کے انخلاء کے مطالبے کے بعد منعقد ہوا۔

دو روز قبل لیبیا کی فوج نے لیفٹننٹ جنرل خليفہ حفتر کی قیادت میں راس لانوف ، السدرة ، الزويتينة اور البريقة کی بندرگاہوں پر قبضہ کر کے وہاں سے قومی وفاق کی حکومت کے ہمنوا تیلی کی تنصیبات کے محافظین کو نکال دیا تھا۔