.

شامی فوج حلب میں کاستیلو روڈ سے پیچھے ہٹنا شروع ہوگئی : روس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس نے اطلاع دی ہے کہ شام کی سرکاری فورسز کا حلب کے بیچوں بیچ سے گزرنے والی شاہراہ کاستیلو کے ارد گرد سے انخلاء شروع ہوگیا ہے۔

روس کے ایک سینیر عہدے دار ولادی میر سواچینکو نے ٹیلی ویژن سے جمعرات کو نشر کیے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''شام کی مسلح افواج نے اپنی ذمے داریوں کو پورا کرتے ہوئے کاستیلو روڈ سے فوجی سازوسامان اور تمام اہلکاروں کو بتدریج پیچھے ہٹانا شروع کردیا ہے۔اس کے بعد حلب کے مشرقی حصے میں بلا روک ٹوک انسانی امداد بہم پہنچائی جاسکے گی''۔

انھوں نے مزید کہا ہے کہ اس اہم شاہراہ کے نزدیک موجود باغی گروپ بظاہر پیچھے ہٹتے نظر نہیں آئے ہیں حالانکہ ان کا بھی شامی فوج کے ساتھ بیک وقت انخلاء پر اتفاق ہوا تھا۔

امریکا اور روس کے درمیان طے شدہ سمجھوتے کے تحت جمعرات کو گرینچ معیاری وقت کے مطابق 0600 بجے سے شامی فوج کا کاستیلو روڈ سے انخلاء شروع ہونا تھا۔ برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ طرفین کاستیلو روڈ سے بیک وقت انخلاء چاہتے ہیں۔

سوموار کی شام سے اس جنگ بندی کے نتیجے میں شام کے بیشتر علاقوں میں صورت حال پُرامن ہے اور جنگ بندی کی بڑے پیمانے خلاف ورزیوں کی اطلاعات نہیں ملی ہیں لیکن اس کے باوجود ابھی تک متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان پہنچانے کا عمل شروع نہیں ہوسکا ہے۔

اقوام متحدہ کے ایک اعلیٰ عہدے دار جان ایگلینڈ نے بتایا ہے کہ امدادی سامان سے لدے بائیس ٹرک جمعرات کو ترکی اور شام کے درمیان بفر زون میں پہنچ گئے ہیں۔یہ امدادی سامان حلب کے لیے بھیجا گیا ہے۔

شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسٹافن ڈی مستورا نے خبردار کیا ہے کہ کاستیلو روڈ کو مکمل طور پر محفوظ بنائے جانے تک حلب کی جانب امدادی سامان روانہ نہیں کیا جاسکتا ہے۔