.

داعش کا اہم ترین مرکز "کیمیائی ہتھیاروں کا کارخانہ" تباہ !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی اخبار ٹائمز کے مطابق داعش تنظیم کے ٹھکانوں پر حالیہ بم باری میں تنظیم کے زیر انتظام مسٹرڈ گیس تیار کرنے والی ایک فیکٹری بھی تباہ ہو گئی ، یہ گیس کیمیائی ہتھیاروں کی تیاری میں کام آتی ہے۔

اخبار نے بتایا ہے کہ کچھ عرصہ قبل حملوں میں داعش کے 50 ٹھکانے تباہ ہو گئے جن میں عراق کے شہر موصل کے نزدیک دواؤں کی ایک سابق فیکٹری بھی شامل ہے جس کو کیمیائی ہتھیار تیار کرنے کے کارخانے میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔

اخبار نے امریکی فضائیہ کے کمانڈر جنرل جيفری ہرگین کے حوالے سے بتایا ہے کہ مذکورہ کمپلیکس کو "کلورین اور مسٹرڈ گیس" تیار کرنے کے لیے تبدیل کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ حملے میں 12 طیاروں نے شرکت کی اور کارروائی میں اس کارخانے کو اس کے تمام تر سازوسامان کے ساتھ ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا۔

یہ معلومات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب کہ عراقی اور کرد فورسز آنے والے ہفتوں کے دوران داعش تنظیم کے ٹھکانوں کے خلاف ایک بڑے حملے کی تیاری کر رہی ہیں۔ اخبار کے مطابق حملے میں عراقی فوج اور پیشمرگہ کے 30 ہزار سے زیادہ جنگجوؤں کے شریک ہونے کی توقع ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مغربی ممالک کو یقین ہے کہ "داعش" تنظیم کئی ماہ سے کیمیائی ہتھیار تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کرنے میں مصروف ہے۔

کیمیائی ہتھیاروں کے پھیلاؤ پر پابندی کی تنظیم نے اپنی ایک تحقیق میں انکشاف کیا تھا کہ داعش نے 2015 میں شمالی شام کے قصبے مارع میں اپنے حملے کے دوران مسٹرڈ گیس کا استعمال کیا۔