.

جنگ بندی؟ امریکا کے فضائی حملوں میں 62 شامی فوجی ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے مشرقی شہر دیرالزور کے نواح میں واقع ایک فوجی ہوائی اڈے پر امریکا کی قیادت میں اتحاد کے لڑاکا طیاروں نے بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں ساٹھ سے زیادہ شامی فوجی ہلاک اور ایک سو زخمی ہوگئے ہیں۔

روسی فوج نے ہفتے کے روز اس فضائی حملے اور اس میں صدر بشارالاسد کی وفادار فورسز کی ہلاکتوں کی اطلاع دی ہے۔شام کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے بھی دیر الزور کے ائیربیس سے متصل جبل ثردہ پر فضائی حملے کی تصدیق کردی ہے۔ان شامی فوجیوں نے وہاں داعش کا محاصرہ کررکھا تھا۔

روسی فوج نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ''داعش مخالف بین الاقوامی اتحاد کے لڑاکا طیاروں نے دیرالزور کے ائیربیس پر موجود شامی فورسز پر چار فضائی حملے کیے ہیں۔ان میں باسٹھ فوجی ہلاک اور ایک سو سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں''۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے بھی اپنے نیٹ ورک کے حوالے سے ان فضائی حملوں کی تصدیق کی ہے لیکن اس نے شامی فوج کی ہلاکتوں کی تعداد کم بتائی ہے۔اس کا کہنا ہے کہ امریکی اتحادیوں کے فضائی حملوں میں صرف تیس فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔مہلوکین کی یہ تعداد روسی فوج کی بیان کردہ تعداد سے نصف ہے۔

ان فضائی حملوں سے چندے قبل ہی روس کی وزارت دفاع نے خبردار کیا تھا کہ اگر شام میں جنگ بندی ناکام ہوتی ہے تو امریکا اس کا ذمے دار ہوگا۔اس نے کہا کہ امریکا اپنے زیراثر شامی باغیوں پر جنگ بندی کے نفاذ کے لیے دباؤ نہیں ڈال رہا ہے۔

روس کے لیفٹیننٹ جنرل وکٹر پوزنیخیر نے الزام عاید کیا ہے کہ ''امریکا اور اس کے زیر اثر نام نہاد باغی گروپوں نے جنیوا سمجھوتے کے تحت اپنی ذمے داریوں کو پورا نہیں کیا ہے''۔