.

شام میں جنگ بندی ختم ہوئی تو امریکا ذمے دار ہوگا: روس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ اگر شام میں جنگ بندی ناکام ہوتی ہے تو امریکا اس کا ذمے دار ہوگا۔اس نے کہا ہے کہ امریکا اپنے زیراثر شامی باغیوں پر جنگ بندی کے نفاذ کے لیے دباؤ نہیں ڈال رہا ہے۔

روس کی خبررساں ایجنسیوں کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل وکٹر پوزنیخیر نے کہا ہے کہ ''امریکا اور اس کے زیر اثر نام نہاد باغی گروپوں نے جنیوا سمجھوتے کے تحت اپنی ذمے داریوں کو پورا نہیں کیا ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''امریکا نے 9 ستمبر کے جنیوا سمجھوتے کے تحت اپنی ذمے داریوں کو پورا کرنے کے لیے اقدامات نہیں کیے ہیں۔اس صورت میں اگر شام میں جنگ بندی ختم ہوتی ہے تو اس کی تمام تر ذمے داری امریکا پر عاید ہوگی''۔

روسی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ سوموار کی شام سے جنگ بندی کی 199 مرتبہ خلاف ورزیاں کی جاچکی ہیں اور حلب اور حمص میں خاص طور پر صورت حال بہت خراب ہوگئی ہے۔

درایں اثناء حلب میں ایک باغی گروپ کے ایک سینیر عہدے دار نے ہفتے کے روز خبردار کیا ہے کہ ''جنگ بندی برقرار نہیں رہ سکے گی کیونکہ بعض علاقوں میں فضائی حملے اور گولہ باری جاری ہے اور امدادی سامان بھیجنے کے وعدوں کو بھی پورا نہیں کیا گیا ہے''۔

اس باغی عہدے دار کا کہنا ہے کہ ''ہم نے امریکی محکمہ خارجہ کو باور کرادیا ہے کہ جنگ بندی جاری نہیں رہے گی''۔انھوں نے اقوام متحدہ کے ترکی کی سرحد پر رکے ہوئے امدادی قافلے کا بھی حوالہ دیا ہے جو حلب کی جانب سفر شروع کرنے کا منتظر ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''جنگ بندی کو برقرار رکھنا ایک ایسے فریق (روس) کے لیے ممکن نہیں ہے جس نے لوگوں پر جنگ مسلط کررکھی ہے۔اس کے لیے جنگ بندی کو اسپانسر کرنا بھی ممکن نہیں ہے جب دن اور رات وہ بمباری کررہا ہے۔دوسری جانب دوسرا فریق امریکا ہے جو ایک خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہا ہے''۔

اقوام متحدہ کا چالیس ٹرکوں پر مشتمل قافلہ ترکی کی سرحد پر رُکا ہوا ہے۔ان ٹرکوں پر خوراک ،جان بچانے والی ادویہ اور دوسرا امدادی سامان لدا ہوا ہے۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ جب تک اس امدادی سامان کو محفوظ طریقے سے پہنچانے کی ضمانتیں نہیں دی جاتی ہیں،اس وقت تک یہ امدادی سامان روانہ نہیں کیا جائے گا۔

ادھر حلب کے مشرقی علاقے میں موجود اے ایف پی کے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ ہفتے کے روز شہر میں صورت حال پُرامن رہی ہے اور صرف رات کو چند ایک راکٹ چلائے گئے تھے۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے بھی شام میں مختلف محاذوں پر محدود پیمانے پر گولہ باری اور جھڑپوں کی اطلاع دی ہے۔دارالحکومت دمشق کے نزدیک واقع مشرقی الغوطہ میں سرکاری فوج اور باغیوں کے درمیان لڑائی ہوئی ہے اور وسطی صوبے حمص میں متعدد قصبوں میں فضائی حملے کیے گئے ہیں۔