.

شام کے حوالے سے سلامتی کونسل کا اجلاس منسوخ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی سلامتی کونسل نے شام سے متعلق ایک ہنگامی اجلاس جس کا انعقاد نیویارک کے وقت کے مطابق جمعے کی شام طے تھا ، منسوخ کر دیا ہے۔ اجلاس میں شام میں روس اور امریکا کے درمیان طے پایا جانے والا معاہدہ زیربحث آنا تھا۔

نیوزی لینڈ (جو ستمبر میں سلامتی کونسل کی صدارت کر رہا ہے) کے مشن کے مطابق "امریکا اور روس کی درخواست پر سلامتی کونسل نے مشاورت کو منسوخ کر دیا"۔

اجلاس میں امریکی اور روسی نمائندوں کو مشترکہ معاہدے کی تفصیلات پیش کرنا تھیں۔ معاہدے کے متن میں شام میں فائربندی کا وقت ، امدادی سامان پہنچانے اور شدت پسند جنگجوؤں کے خلاف مشترکہ حملوں جیسے امور کو شامل کیا گیا ہے۔

روس نے کہا ہے کہ شام میں فائربندی سے متعلق معاہدے کا سلامتی کونسل میں منظور کیا جانا ممکن نظر نہیں آرہا ہے ، اس لیے کہ امریکا 15 رکنی کونسل کو معاہدے کی تفصیلات واضح کرنے والی دستاویزات سے آگاہ نہیں کرنا چاہتا ہے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ میں امریکی مشن کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل کو تفصیلات سے آگاہ کرنے کے طریقہ کار پر روس کے ساتھ اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔ مشن کے مطابق اب اس معاہدے پر عمل درامد ممکن بنانے پر توجہ مرکوز کی جارہی ہے جو امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور ان کے روسی ہم منصب سرگئی لاؤروف کے توسط سے طے پایا ہے۔

شامی حکومت کا حلیف روس اس بات کا خواہش مند ہے کہ سلامتی کونسل اس معاہدے کی حمایت کرے تاہم فرانس نے کونسل کے دیگر رکن ممالک کے ساتھ یہ کہا ہے کہ وہ معاہدے کی تفاصل جاننا چاہتے ہیں۔

معاہدے کے مطابق پیر 9 ستمبر سے فائربندی پر عمل درامد کے آغاز کے بعد تمام فریقوں کو حلب شہر میں امداد پہنچانے کے عمل کو آسان بنانا ہوگا۔ تاہم اقوام متحدہ کی جانب سے امدادی قافلے جمعے کے روز سے ابھی تک شام اور ترکی کی سرحد پر پھنسے ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ میں روس کے سفیر وٹالی چورکن نے جمعرات کے روز بتایا تھا کہ سلامتی کونسل آئندہ بدھ کے روز اعلی سطح کے اجلاس کے دوران اس معاہدے کی حمایت میں قرارداد منظور کر سکتی ہے۔