.

شامی فوج نے امریکی حملے کے بعد داعش کو پسپا کردیا

داعش نے دیرالزور میں شامی فوج کا لڑاکا طیارہ مار گرایا،پائیلٹ ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی فوج نے مشرقی شہر دیرالزور میں ایک ائیربیس کے نزدیک داعش پر جوابی حملہ کیا ہے اور انھیں وہاں سے پسپا کردیا ہے جبکہ داعش نے شامی فوج کا ایک لڑاکا طیارہ مار گرایا ہے۔

شامی فوج ہفتے کے روز امریکا کی قیادت میں اتحاد کے فضائی حملے کے بعد دیرالزور ائیربیس کے نواح سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوگئی تھی اور اس نے اتوار کو دوبارہ صف بندی کرکے داعش کے جنگجوؤں کے خلاف نیا حملہ کیا ہے۔

داعش سے وابستہ خبررساں ایجنسی اعماق نے اطلاع دی ہے کہ لڑائی کے دوران جنگجوؤں نے دیرالزور شہر میں شامی فوج کا ایک جنگی طیارہ کسی ہتھیار سے مار گرایا ہے۔برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے بتایا ہے کہ روسی ساختہ مِگ طیارے کا پائیلٹ ہلاک ہوگیا ہے۔

رصدگاہ کا کہنا ہے کہ شامی فوج کے جوابی حملے میں داعش کے کم سے کم تیس جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔اس نے مزید کہا ہے کہ گذشتہ روز امریکی فضائی حملے میں ہلاک ہونے والے شامی فوجیوں کی تعداد نوّے ہو گئی ہے۔روس نے ان حملوں کے بعد باسٹھ شامی فوجیوں کی ہلاکت کی اطلاع دی تھی۔

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان نے ان فضائی حملوں کے بعد کہا ہے کہ اتحادی پائیلٹ یہ سمجھے تھے کہ وہ داعش کو بمباری میں نشانہ بنا رہے ہیں لیکن جونہی شام کے اتحادی روس نے کمانڈروں کو فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کی اطلاع دی تو انھوں نے حملے روک دیے تھے۔

امریکا نے روسی حکومت کے ساتھ ان حملوں پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔اوباما انتظامیہ کے ایک سینیر عہدے دار نے ایک ای میل بیان میں کہا ہے کہ حملے میں شامی فورسز کا غیر ارادی طور پر جانی نقصان ہوا ہے۔

پینٹاگان کے پریس سیکریٹری پیٹر کُک کا کہنا ہے کہ روسی حکام کو جب صبح کے وقت اس علاقے میں اتحادی طیاروں کی کارروائی کے بارے میں آگاہ کیا گیا تھا تو انھوں نے کسی قسم کی تشویش کا اظہار نہیں کیا تھا۔