شام میں جنگ بندی دم توڑنے لگی، حلب پر بمباری شروع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شام میں ایک ہفتہ پیشتر امریکا اور روس کی جانب سے اتفاق رائے سے شروع کی گئی عارضی جنگ بندی ایک بار پھر ناکامی سے دوچار ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق جنگ بندی کے ایک ہفتے میں پہلی بار شمالی شام کے حلب شہر میں بمباری شروع کردی گئی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق انسانی حقوق کی صورت حال پرنظر رکھنے والے ادارے ’’آبزرو یٹری برائے انسانی حقوق‘‘ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک ہفتے کے سکون کے بعد حلب میں دوبارہ لڑائی شروع ہوگئی ہے۔

بیان میں کہا گیاہے کہ رات گئے حلب کی کرم الجبل، کرم البیک، صاخور اور الشیخ خضر کالونیوں میں بمباری کی گئی جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں تاہم بمباری سے جانی نقصان کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آسکیں۔

درعا شہر میں داعل کے مقام پر بیرل بم حملوں کے نتیجے میں متعدد افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔

روسی وزارت خارجہ نے اتوار کے روز ایک بیان میں خدشہ ظاہر کیا ہے کہ حلب میں کشیدگی ایک بار پھر پیدا ہونے لگی ہے۔ اپوزیشن کے گروپ شامی فوج کے ٹھکانوں پر بڑے پیمانے پرحملوں کی تیاری کررہے ہیں۔

دوسری طرف شامی اپوزیشن کے رکن محمد علوش نے العربیہ نیوز چینل کے برادر ٹی وی الحدث سے بات کرتے ہوئے روسی الزامات کی سختی سے تردید کی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جنگ بندی توڑمیں پہل نہیں کرے گی۔ علوش کا کہنا تھا کہ اسدی فوج اور ان کے حامیوں کی جانب سے جنگ بندی کی 220 خلاف ورزیاں کی جا چکی ہیں اور روس جنگ بندی کی خلاف ورزی اور کشیدگی کا ذمہ دار اپوزیشن کو ٹھہرا رہا ہے۔

ادھر اقوام متحدہ نے جنگ دوبارہ چھڑنے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حلب میں جنگ سے متاثرہ افراد تک امدادی سامان پہنچانے سے قبل ہی لڑائی دوبارہ شروع ہوگئی ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ امدادی سامان سے لدے ٹرک حلب کے راستے میں جگہ جگہ رکے ہوئے ہیں۔

خیال رہے کہ شام میں تازہ کشیدگی اور جنگ بندی ٹوٹنے کا خطرہ اس وقت پیدا ہوا جب ہفتے کے روز امریکی جنگی طیاروں نے ایک سو کے قریب شامی فوجی ہلاک کر دیے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں