حلب: شامی فوج کی امدادی قافلے پر بمباری، 18 ٹرک تباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شام میں جنگ زدہ علاقے حلب کے لیے امدادی سامان لے کر جانے والے 18 ٹرکوں کو شامی فوج کے جنگی طیاروں نے بمباری کا نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں سامان سمیت ٹرکوں کو نقصان پہنچا ہے اور متعدد افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والے ادارے ’رصدگاہ برائے انسانی حقوق‘ کی طرف سے شامی جنگی طیاروں سے امدادی قافلے کو نشانہ بنائے جانے کی تصدیق کی گئی ہے۔ رصدگاہ کا کہنا ہے کہ حلب کے لیے امدادی سامان سے لدے 18 ٹرکوں پر بمباری کی گئی۔ جب کہ حلب میں شامی فوج کی وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں گذشتہ روز کم سے کم 18 عام شہریوں کے مارے جانے کی بھی تصدیق ہوئی ہے۔

اقوام متحدہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حلب کے قریب شامی ہلال احمر اور ریڈ کراس کے اشتراک سے تیار کیے گئے امدادی سامان پر مشتمل 18 ٹرکوں کو جنگی طیاروں سے بمباری کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں امدادی سامان کو نقصان پہنچا ہے۔

قبل ازیں ریڈ کراس کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ انہیں امدادی ٹرکوں پر بمباری کی اطلاعات ملی ہیں مگر وہ اس بات کی تصدیق کررہے ہیں کہ آیا بمباری کا نشانہ بننے والے ٹرک ان کے تھے یا کسی دوسرے ادارے کے ہیں۔

شامی رصدگاہ کا کہنا ہے کہ قریبا 20 امدادی ٹرکوں پر بمباری کی گئی ہے۔ یہ بمباری شامی فوج کے جنگی طیاروں کے ذریعے کی گئی جس کے نتیجے میں حلب کو امداد فراہم کرنے کی ایک اور کوشش ناکام بنا دی گئی ہے۔

درایں اثناء اقوام متحدہ کے امن مندوب برائے شام اسٹیفن دی میستورا نے امدادی سامان سے لدے ٹرکوں پر بمباری کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ جنیوا میں دی میستورا کی ترجمان کی طرف جاری کردہ ایک ای میل بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم حلب میں امدادی سامان سے لدے ٹرکوں پر بمبار کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ امدادی گاڑیوں کو نشانہ بنائے جانے سے ظاہر ہوتا ہے کہ شامی حکومت حلب میں امدادی مشن کی راہ میں کھلم کھلا رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے۔

اطلاعات کے مطابق سوموار کو شامی فوج کے جنگی طیاروں نے حلب میں مختلف اھداف پر 35 فضائی حملے کیے۔ بمباری میں العامریہ اور السکری کالونیوں میں انقلابیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ مشرقی حلب میں توپ خانے اور میزائلوں سے حملے کیے گئے ہیں جن میں کم سے کم 32 افراد ہلاک ہوگئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں