.

داعش کا انسانی اعضاء کی فروخت کا وحشیانہ حربہ!

جنگی اخراجات پوری کرنے کے لیے دہشت گرد سفاکیت پر اتر آئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام اور عراق میں سرگرم دولت اسلامیہ ’داعش‘ کہلوانے والے گروپ کی 80 فی صد آمدن کا ذریعہ تیل کے وسائل تھے مگر عالمی اتحادی افواج کی طرف سے داعش کے ٹھکانوں پر مسلسل بمباری نے داعش کو تیل کےوسائل سے محروم کردیا۔ اگلے مرحلے پر داعشی دہشت گردوں نے جنگی اخراجات پورے کرنے کے لیے نوادرات اور منشیات کی فروخت کا سہارا لیا مگر اس میں بھی ناکامی کے بعد جنگجو زیادہ سفاکانہ حربوں پر اترآئے اور اب وہ قیدی بنائے گئے لوگوں کے اعضاء نکال کر انہیں فروخت کررہے ہیں۔

اخبار ’ڈیلی میل‘ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ داعش کی طرف سے بڑی تعداد میں لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارے جانے کے دیگر اسباب میں ایک اہم وجہ ان کےاعضاء چوری کرنا بھی ہے کیونکہ داعشی دہشت گرد اپنے ڈاکٹروں کی مدد سے مقتول افراد کے جسمانی اعضاء کاٹ کرانہیں اعضاء کی خرید وفروخت میں ملوث مافیا تک پہنچا رہے ہیں جس کے بدلے وہ رقوم حاصل کرتے ہیں۔

اخباری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ داعش نے مقتول افراد کے اعضاء چوری کرنے کے بعد انہیں محفوظ بنانے کے ’گُر‘ بھی سیکھ لیے ہیں۔ اس ضمن میں داعش نے ماہر ڈاکٹروں کی بھی خدمات حاصل کی ہیں۔ وہ انسانی اعضاء چوری کرنے کے بعد محفوظ کرلیتے ہیں اور موقع بہ موقع انہیں جرائم پیشہ گروپوں کو فروخت کرکے اسلحہ اور رقوم حاصل کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ انسانی اعضاء سے حاصل ہونے والی رقم سے داعشی جنگجوؤں کو تنخواہیں ادا کی جاتی ہیں۔

برطانوی اخبار نے داعش کے زیرتسلط عراق کی موصل گورنری کے مقامی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ داعشی جنگجوؤں نے 23 مقتول اور زندہ زخمیوں کے جسم چیر پھاڑ کر ان کے اندرونی اعضاء نکالے جنہیں بعد ازاں فروخت کردیا گیا۔

اخباری اطلاعات کے مطابق داعش نے انسانی اعضاء کی خریدو فروخت کا دھندہ منظم کرنے کے لیے باقاعدہ ایک شعبہ قائم رکھا ہے جو انسانی اعضاء مثلا دل، جگر، گردے، آنتیں اور دیگر اعضاء نکال کر انہیں بلیک مارکیٹ میں سرگرم انسانی اعضاء کی چوری میں ملوث عناصر کو فروخت کی نگرانی کرتا ہے اور اس کے عوض حاصل ہونے والی آمدنی کو تنظیم کے خزانے میں جمع کرایا جاتا ہے۔

عراق میں ناک، کان اور گلے کے امراض کے ڈاکٹر ’سروان‘ کا کہنا ہے کہ موصل میں انسانی اعضاء کی چوری کادھندہ سنہ 2014ء میں اس وقت سے شروع ہوگیا تھا جب داعش نے اس علاقے پر تسلط قائم کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ داعش ماہر سرجنز کی خدمات حاصل کرتے ہوئے لوگوں کے اعضاء نکلوتی اور انہیں عالمی مافیا کے ہاتھ فروخت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موصل پرقبضے کی لڑائی کے دوران جو لوگ مارےگئے یا زخمی ہوئے تھے ان کے اعضاء نکال لیے گئے تھے۔

واضح رہے کہ عالمی سطح پر داعش کے خلاف جاری مہم کے نتیجے میں داعش تنظیم کے ذرائع آمدن مزید کم سے کم ہوتے جا رہے ہیں۔ ایک امریکی اقتصادی کمپنی کے جائزے کے مطابق داعش کی تیل کی آمدن 33 ہزار بیریل سے کم ہوکر 21 ہزار بیرل یومیہ تک آگئی ہے۔ اس طرح تنظیم کی آمدن 80 ملین ڈالر ماہانہ سے کم ہوکر 56 ملین ڈالر ماہانہ تک پہنچ چکی ہے۔

سنہ 2014ء میں داعش نے ایک ڈرامائی معرکے کے دوران عراق میں تیل کی دولت سے مالا مال علاقے موصل پرقبضہ کرلیا تھا۔ چند ماہ کے دوران داعش نے عراق کے 22 فی صد علاقے پر اپنی حکومت قائم کرلی تھی۔ گذشتہ دو برسوں کے دوران 9 ملین افراد داعش کے قبضے میں چلے گئے ہیں۔