.

حلب میں کلینک پر فضائی حملہ، طبی عملے کے چار ارکان ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے دوسرے بڑے شہر حلب کے نزدیک ایک گاؤں پر فضائی حملے میں طبی عملے کے چار ارکان ہلاک ہوگئے ہیں اور ایک نرس شدید زخمی ہوگئی ہے۔

جنگ زدہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف شامی ڈاکٹروں کی یونین (یو او ایس ایس ایم ) نے بتایا ہے کہ اس کے عملے کے چار ارکان دو ایمبولینسوں میں سوار تھے اور انھیں کلینک پر مریضوں کو لے جانے کے لیے طلب کیا گیا تھا۔

اس یونین کا کہنا ہے کہ ''منگل اور بدھ کی درمیانی شب گیارہ بجے کے قریب خان طومان گاؤں میں واقع کلینک پر فضائی بمباری کی گئی ہے جس سے وہ مکمل طور پر تباہ ہوگیا ہے اور مزید افراد بھی ملبے تلے دبے ہوسکتے ہیں''۔

اس یونین کے ڈائریکٹر احمد دبیس نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ ''کلینک ایک تین منزلہ عمارت میں واقع تھا۔شدید بمباری کے نتیجے میں یہ عمارت مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہے۔فی الحال ہمیں یہ معلوم نہیں ہے کہ ملبے تلے اور کتنے افراد دبے ہوئے ہیں''۔

یو او ایس ایس ایم کے فرانس میں سربراہ ڈاکٹر زیادہ علیسا نے کلینک اور عملے پر حملے کو ناقابل قبول قرار دے کر اس کی مذمت کی ہے۔انھوں نے کہا کہ ''انسانی امدادی کارکنوں اور طب سے وابستہ افراد کو جان بوجھ کر ہدف بنانا بین الاقوامی انسانی قانون کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ہم عالمی برادری سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ان ہلاکتوں کو رکوانے کے لیے فوری طور پر اقدامات کرے''۔

یو او ایس ایس ایم شامی تارکین وطن کا قائم کردہ ایک امدادی گروپ ہے۔اب یہ شام کے علاوہ عالمی سطح پر بھی کام کررہا ہے۔واضح رہے کہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق شام دنیا میں صحت کے پیشے سے وابستہ افراد کے لیے دنیا کا خطرناک ترین ملک ہے جہاں گذشتہ سال طبی مراکز اور اسپتالوں پر 135 حملے کیے گئے تھے۔