امریکی طیاروں نے شامی فوجیوں پر جان بوجھ کر حملہ کیا: بشارالاسد

امریکا جنگ بندی کے خاتمے کا ذمے دار ہے،شام میں جنگ عالمی اور علاقائی تنازعے کا حصہ ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

شامی صدر بشارالاسد نے کہا ہے کہ ملک کے مشرقی شہر دیر الزور میں امریکی طیاروں نے جانتے بوجھتے ہوئے شامی فوجیوں پر فضائی حملے کیے تھے اور یہ حملے ایک گھنٹے تک جاری رہے تھے۔انھوں نے امریکا پر یہ بھی الزام عاید کیا ہے کہ وہی جنگ بندی کے خاتمے کا ذمے دار ہے۔

انھوں نے ایسوسی ایٹڈ پریس ( اے پی )کے ساتھ انٹرویو میں کہا ہے کہ شام میں جنگ کے جاری رہنے کا امکان ہے کیونکہ ان کے مخالفین کے لیے غیرملکی امداد کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔

امریکی خبررساں ادارے نے ان سے یہ انٹرویو بدھ کو لیا تھا۔انھوں نے کہا کہ امریکا شام میں روس کے ساتھ مل کر جنگجوؤں سے لڑنے کا عزم نہیں رکھتا ہے۔

صدر بشارالاسد نے ان الزامات کو بھی مسترد کردیا ہے کہ شامی یا روسی طیاروں نے حلب میں اقوام متحدہ کے امدادی قافلے کو فضائی حملے میں نشانہ بنایا تھا۔انھوں نے اس بات کی بھی تردید کی ہے کہ ان کے وفادار فوجی حلب شہر کے باغیوں کے زیر قبضہ حصے میں امدادی سامان اور خوراک کو داخل ہونے سے روک رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں