داعش کا عراق میں امریکی فوج پر کیمیائی حملہ

القیارہ فوجی اڈے پر مسٹرد گیس حملے میں کوئی فوجی زخمی نہیں ہوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی نیوز چینل 'سی این این' نے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ 'داعش' نے القیارہ بیس پر امریکی اور عراقیوں فوجیوں پر گزشتہ روز کیمیائی ہتھیاروں سے حملہ کیا ہے۔

حکام کا مزید کہنا تھا کہ داعش نے منگل کے روز شمالی عراق میں واقع فوجی اڈے پر کیمیائی اثرات کا حامل راکٹ فائر کیا۔ اس اڈے پر امریکی اور عراقی فوجی تعنیات ہیں۔

چینل نے ایک عہدیدار کا بیان بھی نشر کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ داغے جانے والے راکٹ کا معیار زیادہ بہتر نہیں تھا جبکہ ایک دوسرے عہدیدار نے بتایا کہ داغا جانا والا راکٹ اپنے کیمیائی اثرات پھٹنے کے بعد دکھا نہیں سکا۔ وزارت دفاع کے حکام نے بتایا کہ فوجی اڈے پر گرنے والے راکٹ کا معائنہ کرنے کے لئے فوجی ٹیم پہنچ گئی تھی۔

نیوز چینل نے دعوی کیا ہے کہ فوجی اڈے پر تعینات امریکیوں پر مسٹرد گیس کیمیائی راکٹ حملے کے منفی اثرات دیکھنے میں نہیں آئے۔ دو فیلڈ وزٹ کے بعد یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچی کہ داغا جانے والا راکٹ مشکوک کیمیائی ہتھیار تھا۔

امریکی عہدیدار نے بتایا کہ امریکی فوج داعش کی جانب سے داغے جانے والے کیمیائی راکٹ کے معاملے پر مزید تحقیق کر رہی ہے۔ ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر 'رائیٹرز' کو بتایا کہ پہلی تحقیق میں راکٹ کے اندر مسٹرڈ گیس کی موجودگی کا شک ہوا، تاہم راکٹ کے ٹکڑوں کا معائنہ کرنے والے فوجیوں پر مسٹرڈ گیس کے منفی اثرات دیکھنے میں آئے۔

یاد رہے کہ القیارہ فوجی بیس کو موصل شہر میں داعش کے خلاف حملے کے لئے لانچنگ پیڈ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں