شام میں حملے کے بعد اقوام متحدہ کی امدادی سرگرمیاں بحال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام میں اقوام متحدہ نے اپنے ایک امدادی قافلے پر حملے کے اڑتالیس گھنٹے کے بعد امدادی سرگرمیاں بحال کردی ہیں اور اس کے ایک قافلے کے ذریعے دارالحکومت دمشق کے نواح میں واقع محاصر زدہ ایک علاقے میں امدادی سامان پہنچایا جارہا ہے۔

اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر برائے انسانی امور کے ترجمان جینز لائیرک نے جمعرات کے روز بتایا ہے کہ امدادی قافلے میں شامل ٹرکوں کو واضح الفاظ میں نشان زد کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہم دمشق کے نواح میں محاصرے کا شکار ایک دیہی علاقے میں امدادی قافلہ بھیج رہے ہیں اور جب یہ قافلہ وہاں پہنچے گا تو ہم اس کی حقیقی جگہ کے بارے میں حکام کو آگاہ کردیں گے۔

شام میں عالمی ادارہ صحت کی نمائندہ ایلزبتھ ہوف نے بھی گذشتہ روز باغیوں کے زیر قبضہ اور شامی فوج کے محاصرے میں قصبے معظمیہ میں سکیورٹی خطرات کے جائزے کے بعد طبی سامان بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔

سوموار کی شب شمالی شہر حلب کے نزدیک ایک فضائی حملے میں اقوام متحدہ کے بیس ٹرکوں پر مشتمل قافلے کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ اس کے امدادی قافلے پر حملے میں کم سے کم بیس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔اقوام متحدہ نے ان ٹرکوں پر فضائی حملے کے بعد تمام امدادی قافلے عارضی طور پر معطل کردیے تھے۔

امریکی عہدے داروں کا خیال ہے کہ روسی طیارے نے یہ حملہ کیا تھا لیکن روس نے اس حملے سے لاتعلقی ظاہر کی ہے۔روسی وزارت دفاع نے بدھ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ اقوام متحدہ کے قافلے پر حملے کے وقت امریکا کا ایک بغیر پائیلٹ جاسوس طیارہ فضا میں موجود تھا۔

اس سے ایک روز پہلے روسی وزارت دفاع نے کہا تھا کہ'' روس یا شام کے لڑاکا طیاروں نے حلب کے جنوب مغرب میں واقع نواحی علاقے میں اقوام متحدہ کے امدادی قافلے پر کوئی فضائی حملہ نہیں کیا تھا''۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں