امریکی وفد کے ایران کے خفیہ دورے کی تفصیلات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی ریاست یوٹاہ سے تعلق رکھنے کانگریس کے رکن اور سینیٹر جم ڈیباکیس نے نے کچھ عرصہ قبل امریکی وفد میں شامل ہو کر ایران کے خفیہ دورے کی تفصیلات کا انکشاف کیا ہے۔

امریکی ویب سائٹ"kutv" کے ساتھ انٹرویو میں ڈیباکیس نے بتایا کہ 12 افراد پر مشتمل امریکی وفد نے ایک ایرانی تعلیمی ادارے کی دعوت پر یہ دورہ کیا۔ ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر کا مزید کہنا تھا کہ امریکی وفد نے واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے میں قائم ایرانی مفادات کے تحفظ کے بیورو سے ویزے حاصل کیے تھے۔

ڈیباکیس نے واضح کیا کہ ان کا ایران کا دورہ 6 روز پر مشتمل تھا جس کے دوران وہ تہران اور اصفہان گئے۔ ان کے مطابق "ایران میں لوگ امریکیوں سے محبت کرتے ہیں اور جب ہم ایران کی سڑکوں پر نکلتے ہیں تو ایرانی باشندے ہم سے بات چیت کرتے ہیں اور اپنے گھروں پر دعوت دیتے ہیں"۔

امریکی سینیٹر کے نزدیک "ایرانی عوام امریکا کے ساتھ تعلقات کی درستی کے لیے تیار ہیں خواہ ان کی حکومت اس بات پر یقین نہ رکھتی ہو"۔

جم ڈیباکیس سے جب یہ سوال پوچھا گیا کہ 1970 سے دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات منقطع ہونے کے باوجود اس دورے کی وجوہات کی تھیں تو ان کا کہنا تھا کہ "میں صرف امریکی عوام اور یوٹاہ ریاست کی خدمت کا مقصد دل میں لے کر گیا تھا تاکہ لوگوں کے درمیان امن پو اور ان کے ساتھ بات چیت کی جائے"۔

دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب کے نزدیک شمار کی جانے والی نیوز ایجنسی "تسنيم" نے اس دورے کی اجازت دینے پر ایرانی حکام کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

اس سے قبل مختلف ایرانی ذرائع نے انکشاف کیا تھا کہ ایک امریکی وفد نے ایران کو بوئنگ ساخت کے شہری طیاروں کی فروخت کی ڈیل ختم کروانے کے لیے تہران کا دورہ کیا تھا۔

پاسداران انقلاب اور سکیورٹی اداروں کے نزدیک ذرائع ابلاغ نے مذکورہ دورے کو اس وجہ سے کڑی نکتہ چینی کا نشانہ بنایا تھا کہ امریکی وفد کے دو ارکان فوجی ماہرین تھے۔

ایرانی مرشد اعلی علی خامنہ ای نے گزشتہ چند ماہ کے دوران امریکا پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اس کے ساتھ سیاسی اور اقتصادی تعلقات کی بحالی کو مسترد کر دیا تھا۔ علی خامنہ ای نے امریکا پر الزام عائد کیا کہ وہ ایرنی نظام کے اندر تفرقہ پھیلانے اور ایران میں سرائیت کی کوششیں کر رہا ہے۔ تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ دورہ اور جولائی 2015 میں نیوکلیئر معاہدے کے بعد امریکی اقتصادی وفود کے ایران کے سابقہ دورے کسی طور بھی مرشد اعلی علی خامنہ ای کی منظوری کے بغیر ممکن نہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں