سعودی داعشی خاتون خلود الرکیبی کے بارے میں اہم معلومات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

شدت پسند تنظیموں کی جانب سے ایک حکمت عملی اپنائی گئی ہے جس کو "خاندانی دہشت گردی" قرار دیا جا رہا ہے۔ پہلے اس کو "القاعدہ" نے اپنایا اور اب "داعش" بھی اس کے نقش قدم پر چل رہی ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس سلسلے میں "مائیں" خود اپنے بیٹوں کو بھرتی کر کے ان کو دھماکا خیز مواد سے بھری بیلٹیں کمر پر کسنے کی ترغب دیتی ہیں۔

سعودی وزارت داخلہ نے کچھ عرصہ قبل ایک سعودی داعشی خاتون خلود الرکیبی کے بارے میں انکشاف کیا جس نے "داعش" کے لیے اپنی حمایت کا اعلان کر کے اپنے دو بیٹوں کو خودکش حملوں اور اپنے بھائی کے ساتھ دھماکا خیز مواد منتقل کرنے پر تیار کیا۔ سعودی سکیورٹی ادارے نے ان کی منصبوبہ بندی کو ناکام بناتے ہوئے ان تمام سمیت 17 افراد پر مشتمل ایک نیٹ ورک کو پکڑ لیا۔

خلود الرکیبی جس کو "داعش" تنظیم نے ام محمد کا خطاب دیا اس کی عمر پچاس برس کے قریب ہے جب کہ تعلیمی سطح پرائمری سے زیادہ نہیں۔ وہ شادی شدہ ہے اور اس کے چار بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔

خلود کا ایک بیٹا اس وقت شام میں داعش تنظیم کے شانہ بشانہ لڑ رہا ہے۔ اس کے علاوہ دو بیٹے حمد الموسی اور نصار الموسی ان کو سعودی عرب کے اندر کارروائیوں کے لیے بھرتی کیا گیا۔

سعودی وزارت داخلہ کے مطابق خلود کا کردار "داعش" تنظیم کے لیے لوجسٹک سپورٹ فراہم کرنے تک محدود نہیں بلکہ اس نے اپنے ایک بیٹے کو خودکش کارروائی اور گولہ بارود کی منتقلی میں شرکت کے لیے تیار کیا۔ اس کے علاوہ خلود الرکیبی نے دہشت گرد کارروائیوں کے لیے مطلوبہ نقشے بھی فراہم کیے اور بیرون ملک قیادت سے رابطے میں رہی۔

داعشی ماں نے پہلے سیل کے اندر اپنی ذمہ داری سنبھالی جو کہ 6 افراد (احمد عسيري ، نصار الموسى ، حمد الموسى ، سلطان العتيبي ، ناصر الركيبي اور خلود الركيبي) پر مشتمل تھا۔ اس گروپ کو الاحساء شہر میں ایک مذہبی مقام اور نیشنل گارڈز کے ایک ٹھکانے کو دھماکے سے تباہ کرنے کا مشن سونپا گیا تھا۔

شدت پسند تنظیموں نے ماؤں کو بھرتی کرنے کے مقاصد بہت جلد ہی جان لیے تھے۔ خواتین کو اس بات کا پابند بنایا گیا کہ وہ اپنی ہر اولاد کو "خليفہ" کا فرماں بردار اور جاں نثار بنائے۔

یہ مائیں اپنے کم عمر بچوں کو "موت" کے تصور میں غوطے دلاتی ہیں۔ یہ پھر مائیں نہیں رہتی ہیں بلکہ ایک تاریخی قصے کا روپ دھار لیتی ہیں جن کو مختلف خطابات سے پکارا جاتا ہے۔ جیسا کہ "الخنساء" یا "ام الشهداء" جو ایک مشہور عرب شاعرہ اور صحابیہ بھی تھیں اور انہوں نے اپنے چار بیٹوں کو قتال میں شرکت کی نصیحت کی اور وہ سب شہید ہو گئے تھے۔

اس کے علاوہ " ُنسيبہ" کے نام سے جو خزرج سے تعلق رکھنے والی صحابیہ تھیں اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ متعدد غزوات میں شرکت کی تھی۔

شدت پسند تنظیموں نے مختلف قصوں کو اپنے مقاصد کے حصول کے لیے تاریخی مرجع بنا لیا۔ اس طرح عورت کی نقل و حرکت اور القاعدہ یا داعش سے متعلق خواتین کے خصوصی استثنائی افعال کو شریعت کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی۔ دہشت گرد تنظیموں نے اپنی خواتین کے ونگز کو تاریخ میں معروف خواتین کے ناموں سے پکارنا شروع کر دیا۔ اس حوالے سے "الخنساء" نام سب سے زیادہ مشہور اور استعمال کیا جانے والا ہے۔

"داعش" تنظیم میں بھی ماؤں کی جانب سے نظریاتی غرقابی کا طریقہ کار دیگر شدت پسند تنظیموں سے بہت زیادہ مختلف نہیں ہے۔ اس سلسلے میں 7 برس سے کم عمر بچوں کو سیاہ رنگ کا قندھاری لباس پہنا دیا جاتا ہے بچوں کے سروں پر چھوٹی سی کالی ٹوپی بھی موجود ہوتی ہے۔ ننھے منے بچوں کی گودوں میں پلاسٹک کے پستول ، مصنوعی بم اور "داعش" تنظیم کا "پرچم" ہوت ہے۔ اس کے ساتھ ان میں جذبہ پیدا کرنے کے لیے جہادی ترانے استعمال کیے جاتے ہیں۔

اس طرح وقت گزرنے کے ساتھ عسکری تربیت حاصل کرتے ہوئے یہ بچے غیر محسوس طریقے سے "بارودی بیلٹ کی دہشت گردی" کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔

خلود الرکیبی یا ام محمد داعش تنظیم میں شامل موت کی ماؤں کی پہلی رکن نہیں جس کا انکشاف سعودی وزارت داخلہ کی جانب سے کیا گیا ہے۔ اس سے قبل کئی دیگر خواتین کے بارے میں اعلان ہوا جن میں "ام عاتكہ" کے نام سے معروف خاتون شامل ہے۔ یہ اپریل 2015 میں سعودی سکیورٹی اداروں کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے سیل کے 65 ارکان میں سے تھی۔

مارچ 2016 میں سعودی داعشی خاتون بنان عیسی ہلال کی ہلاکت کا اعلان کیا گیا۔ بنان ہلال اردن کے سکیورٹی حکام کو مطلوب "ابو حمزہ التبوكی" کی بیٹی تھی۔

جون 2016 میں وزارت داخلہ کی جانب سے عسیر میں ایمرجنسی فورسز کی مسجد میں دھماکے کی کارروائی میں ملوث افراد کے اعلان کے بعد ، ایک خاتون کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا جو ایک دہشت گرد کی بیوی ہے۔ اس نے دھماکے میں استعمال کی جانے والی بارودی بیلٹ کو منتقل کرنے کے لیے ریاض سے عسیر تک کے سفر میں بیلٹ گاڑی میں اپنے دونوں پاؤں کے درمیان چھپا رکھی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں