.

دبئی پولیس نے 'قصاب' قتل کیس کی ویڈیو جاری کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دبئی پولیس نے بالاخر پیشہ ور قصاب کے ہاتھوں قتل ہونے والی فلپائنی خادمہ کے اندھے قتل کا سراغ لگا لیا ہے۔

کمانڈر انچیف دبئی پولیس خمیس مطر المزینہ نے پولیس ہیڈکوارٹرز میں ہونے والی نیوز کانفرنس میں انکشاف کیا کہ 27 مئی 2016 کو ہمیں الورقاء کے علاقے سے ایک لاپتا لاش ملی۔

خمیس مظر نے بتایا کہ لاش ایک فلپائنی خاتون کی تھی جس کے دونوں ہاتھ اور سر کٹا ہوا تھا جس کہ وجہ سے متوفیہ کی حتمی شناخت ایک بڑا چیلنج تھی۔

متوفیہ کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ ابوظہبی میں ایک کفیل کے ہاں سے فرار ہوئی تھی۔ اسے قتل کرنے والے شخص کی تین ماہ بعد شناخت کر لی گئی۔ ملزم نے جرم کا اعتراف کر لیا ہے اور وہ پولیس کی جانب سے گرفتاری کر انتہائی حیرانی میں مبتلا تھا۔ پولیس نے اسے گرفتار کرنے کے لئے انتہائی مہارت سے پلان تیار کیا تھا۔

ملزم نے قتل کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ اس نے فلپائنی خاتون کو ابوظہبی کے علاقے المصفح میں قتل کر کے اس کے ہاتھ اور سر قلم کر دیئے۔ مقطوعہ اعضاء کو قاتل نے عجمان کے علاقے میں جلا کر دفن کر دیا۔

المزینہ کے مطابق قتل کے اس اندھے واقعے کو 'قصاب' کا نام دیا گیا کیونکہ اس میں ملزم نے متقولہ فلپائنی خاتون کا جسم انتہائی پیشہ ور قصاب کی طرح کاٹا۔ ملزم کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ اپنے فلیٹ میں غیر قانونی طور پر گوشت بنانے کا کام کرتا تھا۔

پولیس کے مطابق مقتولہ اور ملزم کے درمیان لینے دینے کا تنازع تھا جس کا انجام بہیمانہ قتل کی صورت میں نکلا۔