بشار الاسد کی فوج نے حلب میں مزید 91 لاشے گرا دیئے

شامی فوج کو حملے میں فضائی کور دینے پر امریکا، روس سے نالاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شامی فوج کے حلب کی مشرقی آبادیوں پر عدیم النظیر بری اور فضائی حملوں میں کم سے کم 91 شہری مارے جا چکے ہیں۔ بشار الاسد کی حامی فوج کو اپنی ان کاررروائیوں میں روسی لڑاکا طیاروں کا کور حاصل تھا۔

شدید ترین فضائی حملوں میں شہری دفاع کے مرکز، ایمبولینس اور فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کو بھی کھلے عام نشانہ بنایا گیا۔ شامی ہسپتال کے ڈائریکٹر نے بتایا کہ اب تک کی کارروائی میں 91 جانیں ضائع ہو چکی ہیں جبکہ شہری دفاع کے محکمہ کے مطابق چالیس مکانات منہدم کئے جا چکے ہیں۔

شامی حکومت، جسے روسی فضائیہ کی حمایت حاصل ہے، نے جمعرات کے روز اعلان کیا تھا کہ مشرقی حلب میں مسلح اپوزیشن پر کنڑول حاصل کرنے کے لئے انہوں نے نئی کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ یاد رہے حلب کے متاثرہ علاقے میں ڈھائی لاکھ نفوس پر مشتمل آبادی رہتی ہے۔

درایں اثنا واشنگٹن نے حلب پر خونریز حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ ایک بیان میں وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ حلب روسی فضائی کور میں شامی فوج کے حلب پر حالیہ حملے کے بعد ماسکو کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ امریکا کے بقول روس، شام میں قلیل المیعاد جنگ بندی پر عمل کرانے کا پابند ہے اور اس نے بطور ضامن اس کی یقین دہانی کروا رکھی ہے۔

امریکی وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے صحافیوں کو بتایا کہ "اس اقدام پر روس کی مذمت لازمی امر ہے۔ اگر فائر بندی کے معاملے کا کوئی مستقبل ہے تو روس کو اسے بامعنی بنانے کے لئے اپنی کوششوں کو تیز کرنا ہو گا اور اپنی سنجیدگی ثابت کرنا ہو گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں