شام، یمن اور بحرین میں اپنے حلیفوں کو نہیں چھوڑیں گے :ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران کی تشخيص مصلحت نظام کونسل کے سکریٹری اور پاسداران انقلاب کے سابق کمانڈر محسن رضائی کا کہنا ہے کہ تہران "شام ، بحرین اور یمن میں اپنے حلیفوں کو تنہا نہیں چھوڑے گا اور ان کی سیاسی اور معنوی سپورٹ جاری رکھے گا "۔

رضائی نے خبروں کی ایک بین الاقوامی تنظیم Christian Science Monitor کے ساتھ انٹرویو میں زور دے کر کہا کہ "سعودی عرب کے خلاف پروپیگنڈہ جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک خطے میں اس کا رویہ تبدیل نہیں ہو جاتا"۔

پاسداران انقلاب کے سابق کمانڈر کا کہنا تھا کہ "ایران کی سعودی عرب کے ساتھ زمینی سرحد نہیں ملتی اور ہم وہاں اپنی بری افواج نہیں بھیج سکتے تاہم اگر جنگ چھڑی تو ہم فضا اور سمندر کے راستے حملہ کریں گے"۔

رضائی نے جنگ میں میزائلوں کے استعمال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ " یہ لوگ (خلیجی ممالک) سمجھتے ہیں کہ وہ ہمارے میزائل نظام کو روک سکتے ہیں تاہم یہ سب غلط تجزیے ہیں۔ ہم جنگ کا ہونا نہیں چاہتے اور صبر کر رہے ہیں ، ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے مواقف پر نظرثانی کریں"۔

ایران کی تشخیص مصلحت نظام کونسل کے سکریٹری کے نزدیک عرب ممالک بالخصوص شام ، یمن ، بحرین اور عراق میں ان کے ملک کی مداخلت درحقیقت "سعودی عرب کے ساتھ تنازع کے سلسلے" میں ہے۔

رضائی کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایران اور عراق کے درمیان جنگ (1980-1988) " عراق کی جانب سے نہیں تھی بلکہ یقینا یہ سعودی عرب تھا جس نے صدام کو ایران کے ساتھ جنگ کے میں دھکیلا"۔

محسن رضائی کون ہے ؟

یاد رہے کہ رضائی گزشتہ برس مئی میں ایرانی مرشد اعلی علی خامنہ ای کی جانب سے منظوری کے بعد پاسداران انقلاب کی صفوں میں واپس لوٹا تھا۔ اسے شام ، عراق اور یمن میں تہران کے حلیفوں کے شانہ بشانہ لڑائی میں شریک پاسداران انقلاب کے یونٹوں کا مشیر بنایا گیا۔

رضائی نے 29 مارچ 2015 کو یمن میں حوثی باغیوں کے سربراہ عبدالملک الحوثی کے نام ایک خط میں عرب ممالک کے فوجی آپریشن کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کے لیے زور دیا تھا۔

یاد رہے کہ 1954 میں پیدا ہونے والے محسن رضائی نے 2013 کے صدارتی انتخابات میں خود کو حسن روحانی کے مقابل امیدوار نامزد کیا تھا۔

رضائی کو ایرانی انقلاب کی چیدہ شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے۔ 1997 میں ایرانی مرشد اعلی علی خامنہ کی جانب سے تشخیص مصلحت نظام کونسل کا سکریٹری مقرر کیے جانے کے بعد وہ عسکری شعبے سے سیاسی شعبے کی طرف منتقل ہو گیا تھا۔

محسن رضائی نے 2009 کے متنازعہ صدارتی انتخابات میں سابق صدر محمود احمدی نژاد کا مقابلہ بھی کیا۔ وہ احمدی نژاد اور میر حسین موسوی کے بعد تیسرے نمبر پر رہا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں