عراق نے یمنی باغیوں کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراقی وزیر خارجہ ابراہیم الجعفری نے معزول یمنی صدر علی عبداللہ صالح اور حوثی باغیوں کے اتحاد پر مشتمل 'سیاسی کونسل' کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ منصور ہادی کی آئینی حکومت کی بیدخلی کے بعد سے باغیوں نے ملک کو خانہ جنگی کا شکار کر رکھا ہے اور اسی سال اگست میں ایک عبوری سیاسی کونسل کی بنیاد رکھی تھی۔

عراقی وزیر خارجہ نے اس امر کا اعلان ہفتے کے روز یو این جنرل اسمبلی میں شرکت کے موقع پر یمنی ہم منصب عبدالملك المخلافی سے ملاقات کے دوران کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عراق دوسرے ملکوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت کو مسترد کرتا ہے۔

ابراہیم الجعفری نے عبدالملك المخلافی کو جلد ہی اپنے ملک کا دورہ کرنے کی دعوت دی تاکہ دونوں ملکوں کے تعلقات کو مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یمن کی طرف سے بغداد میں سفیر مقرر کرنے کے فیصلے کو سراہتے ہیں۔

یاد رہے کہ یو این میں یمنی اور عراقی وزراء خارجہ کی ملاقات سے چند ہفتے قبل حوثی باغیوں کی قیادت نے بغداد کا دورہ کیا تھا جس میں انہوں نے عراقی وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سے ملاقات کی تھی۔

ابراہیم الجعفری کے دورے کے بعد جاری کردہ بیانات سے صاف ظاہر ہوتا تھا کہ حوثی اور علی عبداللہ صالح ملیشیا یمن کے بعض علاقوں پر اپنے کنڑول کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ نیز عراقی موقف سے اندازہ ہوتا رہا ہے کہ حوثی وفد کا دورہ سیاسی سے زیادہ مذہبی نوعیت کا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں