مشرق وسطی کا "ڈریکولا" شامیوں کا خون پینے قبر سے باہر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

کبھی کبھی ہاتھ سے بنایا گیا خاکہ کیمرے اور تحریر کردہ بات سے زیادہ بہتر طریقے سے اظہار کا حق ادا کرتا ہے۔ برطانوی اخبار "دی ٹائمز" کی ہفتے کے روز اشاعت میں بھی اسی نوعیت کا ایک کارٹون چھپا ہے۔ کارٹون میں شامی صدر بشار الاسد کو بطور "ڈریکولا" دکھایا گیا ہے جو اپنی تاریخی قبر سے ُاٹھ کر شام کے عوام کے خون کا پیاسا نظر آرہا ہے.. اور جب اس کو کوئی ایسا نہ ملا جس کی گردن میں وہ اپنے دانت گاڑ کر خون چوس سکے تو وہ ملک کے جھنڈے کی طرف متوجہ ہوا اور اس کے بالائی حصے میں موجود خون کے گھونٹ بھرنے لگا۔

یہ کارٹون درحقیقت برطانوی کارٹونسٹPeter Brookes کے ضمیر کی آواز ہے جو ٹی وی اسکرین اور خبروں کی ویب سائٹوں پر "مشرق وسطی کے ڈریکولا" کی فوج کی جانب سے شام بالخصوص حلب میں قتل و غارت اور تباہی کی کارروائیاں دیکھ کر ہل گیا۔

پیٹر بروکس کافی عرصے سے "دی ٹائمز" اخبار میں بشار الاسد پر نظر جمائے ہوئے ہیں۔ تقریبا 4 سال قبل ایک مرتبہ انہوں نے بشار کو اس کی نمایاں طویل قامت کے ساتھ اپنے عام قامت ساتھیوں کے درمیان پیش کیا جو اپنے ساتھیوں کے درمیان چھپنے کی کوشش کر رہا ہے۔ 73 سالہ پیٹر نے اس کارٹون کو ایک برطانوی مثل سے مزین کرتے ہوئے لکھا کہ " تم بھاگ تو سکتے ہو مگر چھپ نہیں سکتے"۔

پیٹر بروکس کارٹون کے ذریعے ہجو اور مذاق کرنے والی مشہور شخصیات میں سے ہیں۔ انہوں 2002 سے 2012 کے درمیان پانچ مرتبہ "برطانوی صحافت" کا ایوارڈ بھی حاصل کیا۔ ان کے سوانحی خاکے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی جوانی میں لڑاکا طیارے کے پائلٹ رہ چکے ہیں۔ تاہم انہوں نے کارٹون کے ہتھیار کو دشمنوں کے لیے زیادہ خطرناک پایا۔ لہذا انہوں نے سرکشوں اور ہر اس "ڈریکولا" پر روشنی ڈالنا شروع کر دی جو اپنے عوام کا خون چوستے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں