روحانی کے نیویارک کے سفر کا حاصل.. خالی کرسیاں اور تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایرانی صدر حسن روحانی کو ہر گز یہ توقع نہ تھی کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ان کا خطاب اس حد تک سرد مہری کا شکار ہو جائے گا۔ بالخصوص جب کہ وہ ایک برس سے بھی کم وقت میں آئندہ صدارتی انتخابات میں اپنے بنیاد پرست حریفوں کا سامنا کرنے والے ہیں۔

ایرانی میڈیا نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ہال کی تصاویر کو ہر ممکن طور چھپایا جو ایرانی صدر کے خطاب کے دوران خالی کرسیاں دکھا رہی تھیں۔ اس دوران روحانی کی انفرادی تصاویر اور ہال کے ایک کونے میں موجود ایرانی وفد کی تصاویر پر ہی اکتفا کیا گیا۔

روحانی کے خطاب کو گزرے دو روز بھی نہ ہوئے کہ سوشل میڈیا پر سرگرام ایرانیوں نے "گوگل" پر اپنے صدر کے خطاب کے دوران خالی کرسیوں کی تصاویر تلاش کر لیں جن کو سرکاری و نیم سرکاری میڈیا نے چھپانے کی کوشش کی۔

ایرانیوں کے نزدیک حسن روحانی کے خطاب میں کوئی نئی بات نہیں تھی اور انہوں نے ایک مرتبہ پھر مشرق وسطی میں جاری بحرانات کے حوالے سے اپنے ملک کے مواقف کو دُہرا دیا جن میں شام ، یمن اور عراق شامل ہیں۔

علاوہ ازیں نیویارک میں اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی کے ہال کے باہر حزب اختلاف کے سیکڑوں افراد نے ایرانی صدر کی آمد پر احتجاج کرتے ہوئے مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے بینر اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن میں ایران میں سزائے موت پر عمل درامد کی بڑھتی کارروائیوں کی مذمت کی گئی اور حسن روحانی کی مدت صدارت کے دوران اس میں غیرمسبوق حد تک اضافہ ہوا ہے۔

دوسری جانب خامنہ ای کے میڈیا مشیر حسين شريعتمدارى نے روزنامہ "كيہان" میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں روحانی کی امریکا حاضری کے نتائج پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ "روحانی ہم سے کہتے ہیں کہ امریکا نے نیوکلیئر معاہدے سے متعلق اپنی پاسداری کا وعدہ کیا ہے لیکن صدر روحانی نے یہ واضح نہیں کیا واشنگٹن نے ابھی تک اپنے وعدوں کو پورا کیوں نہیں کیا"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "معاہدے پر سات ماہ سے زیادہ گزر چکے ہیں اور معاہدے کے مطابق ہمیں کچھ پیش نہیں کیا گیا۔ کیا ہم محض زبانی وعدوں کا اعتبار کریں ؟"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں