ایران شام میں ’نو فلائی زون‘ کے قیام کا کیوں مخالف ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

روس کے بعد ایران نے بھی شمالی شام میں نو فلائی زون کے قیام کی تجاویز کو مسترد کردیا ہے۔ ایرانی صدر حسن روحانی کا کہنا ہے کہ ان کا ملک شمالی شام میں نو فلائی زون کے کسی بھی فارمولے کو قبول نہیں کرے گا۔ان کا کہنا ہے کہ ایران شام میں نو فلائی زون کے قیام کی مخالفت میں روس کے موقف سے اتفاق کرتا ہے کیونکہ نو فلائی زون کے قیام کا مقصد شامی اپوزیشن گروپوں کو تحفظ دینا ہے۔ دوسری طرف جرمنی، ترکی اور امریکا شمالی شام میں نو فلائی زون کے قیام کا مسلسل مطالبہ کررہے ہیں۔

امریکی ٹی وی چینل’’ان بی سی‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں حسن روحانی نے کہا کہ شمالی شما میں جنگی طیاروں کو فضاء میں پرواز کی اجازت دینے سے روکنا داعش کو اپنی سرگرمیوں کو وسعت دینے اور قتل عام کا عمل جاری رکھنے کا موقع فراہم کرنے کے مترادف ہے۔ شمالی شام میں جنگی طیاروں کی پروازوں پر پابندی کا 100 فی صد فائدہ دہشت گردوں کو پہنچے گا۔

ایرانی صدر نے شمالی شام میں نو فلائی زون کے قیام کی مخالفت کرتے ہوئے داعش اور دوسرے شامی اپوزیشن گروپوں کو ایک پلڑے میں رکھنے اور اعتدال پسند اپوزیشن کے حوالے سے عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی مذموم کوشش کی، کیونکہ شمالی شام کے بیشتر علاقوں میں داعش کا کوئی وجود نہیں بلکہ زیادہ تر علاقے شام کی اعتدال پسند اپوزیشن کی نمائندہ قوتوں کے کنٹرول میں ہیں۔

شام میں داعش کے خلاف جنگ کے حوالے سے تہران اور واشنگٹن کے درمیان براہ راست رابطوں سے متعلق سوال کے جواب میں ایرانی صدر نے کہا کہ داعش کے خلاف جنگ کے باب میں ان کے امریکی انتظامیہ سے کسی قسم کے براہ راست روابط نہیں ہیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ داعش کے خلاف جنگ کےحوالے سے عراق اور امریکا اور روس اور امریکا کے درمیان رابطے موجود ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے شمالی شام میں نو فلائی زون کے قیام کی مخالفت اس لیے کی جا رہی ہے کیونکہ نو فلائی زون کے قیام سے شامی فوج اور اس کی معاون روسی فوج کے جنگی طیارے بمباری نہیں کرسکیں گے۔ بمباری نہ ہونے کے باعث شامی فوج کو پسپائی کا سامناکرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ کہ اسدی فوج زمینی کارروائی سے زیادہ فضائی حملوں پر انحصار کررہی ہے۔

شمالی شام میں جاری لڑائی ختم کرنے کے لیے امریکا، ترکی اور جرمنی جیسے بڑے ممالک نو فلائی زون کے قیام کا پرزور مطالبہ کرتے چلے آ رہے ہیں۔

گذشتہ روز جرمن وزیرخارجہ فرانک فالٹر اشٹائمنر نے شمالی شام میں تین سے سات روز کے لیے نو فلائی زون کے قیام کا مطالبہ کیا۔ قریبا یہی مطالبہ اس سے قبل امریکی وزیرخارجہ جارن کیری بھی سلامتی کونسل کے شام سے متعلق ہنگامی اجلاس میں کرچکے ہیں۔

جرمن وزیرخارجہ کا کہنا ہے کہ نو فلائی زون کے قیام سے شام میں جنگ سے متاثرہ علاقوں میں محصور لوگوں تک امداد پہنچنے میں مدد ملے گی۔ اگر نو فلائی زون کی تجویز پرعمل درآمد نہیں کیا جاتا تو امدادی قافلوں کو بھی بمباری کا نشانہ بنائے جانے کے خدشات موجود ہیں۔

اس سے قبل ترکی کے وزیرخارجہ مولود جاویش اوگلو نے ایک بیان میں کہا تھا کہ شام میں محفوظ زون کم سے کم 5000 مربع کلو میٹر کے علاقے پرمحیط ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ شمالی شام میں منبج شہر کی جنوب کی سمت میں 45 کلو میٹر کا شورش زدہ علاقہ اب محفوظ زون میں تبدیل کیا گیا ہے۔

فرانسیسی ٹی وی ’’فرانس 24‘‘ نے ترک اخبار ’’ڈیلی صباح‘‘ کے حوالے سے وزیرخارجہ کا بیان نقل کیا ہے۔ مولود اوگلو کا کہنا ہے کہ ترکی شام میں نو فلائی زون کے قیام کی تجاویز کی حمایت کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انقرہ عالمی طاقتوں کے ساتھ مل کر شمالی شام میں داعش کے مرکز الرقہ میں مشترکہ فوجی کارروائی پر بات چیت کررہا ہے تاہم یہ کارروائی کب شروع ہوگئی اس کا کوئی ٹائم ٹیبل نہیں دیا جاسکتا البتہ اس کے لیے تیاریاں کی جا رہی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں