روسی اور شامی لڑاکا طیاروں کے مشرقی حلب پر حملے جاری

گذشتہ چار روز میں بمباری سے مرنے والوں کی تعداد 130 ہوگئی ،خوراک اور ادویہ کی قلّت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شام کے شمالی شہر حلب کے مشرقی حصے پر روسی اور شامی لڑاکا طیاروں نے تباہ کن بمباری جاری رکھی ہوئی ہے اور گذشتہ چار روز میں شہر میں فضائی حملوں میں مرنے والوں کی تعداد ایک سو تیس سے بڑھ گئی ہے جبکہ شہر کے مکینوں نے خبردار کیا ہے کہ غذائی اجناس اور ادویہ کی قلّت بڑھتی جارہی ہے۔

روسی اور شامی لڑاکا طیاروں نے سوموار کو علی الصباح حلب کے مشرقی علاقوں المشہد اور سیف الدولہ کو خاص طور پر اپنے حملوں میں نشانہ بنایا ہے اور بمباری کے نتیجے میں مختلف علاقوں سے آگ کے شعلے بلند ہوتے دیکھے گئے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے شام میں اپنے نیٹ ورک کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ نصف شب کے بعد سے حلب کے مشرقی حصوں دسیوں فضائی حملے کیے گئے ہیں۔ان میں دو شہری ہلاک اور بیسیوں زخمی ہوگئے ہیں۔شامی فوج اور اس کی اتحادی ملیشیائیں مشرقی حلب میں جمعرات سے باغی گروپوں کے خلاف بڑی کارروائی کررہی ہیں۔ان کی حمایت میں روسی طیارے مسلسل چوتھے روز تباہ کن بمباری کررہے ہیں۔

رصدگاہ کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے مزید بتایا ہے کہ شامی اور روسی طیاروں کے مشرقی حلب پر جمعرات سے جاری حملوں میں کم سے کم ایک سو تیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں اور یہ تمام کے تمام عام شہری ہیں۔ان میں بیس بچے اور نو خواتین ہیں۔انھوں نے مزید بتایا ہے کہ صوبہ حلب کے دیہی علاقوں پر فضائی حملوں میں گیارہ بچوں اور پانچ خواتین سمیت چھتیس شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

باغی گروپوں کے زیر قبضہ حلب سے تعلق رکھنے والے ایک میڈیکل ذریعے نے کہا ہے کہ اسپتالوں میں زخمیوں کی بڑی تعداد آنے سے ادویہ اور دوسرا طبی سامان کم پڑتا جارہا ہے۔ اسپتالوں پر بہت زیادہ دباؤ ہے اور زخمیوں کو لگانے کے لیے خون کی بھی کمی کا سامنا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ حلب کے محاصرے کے بعد غذائی اجناس کم یاب ہوتی جارہی ہے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں اور وہ بآسانی دستیاب بھی نہیں ہو رہی ہیں۔شہر میں فضائی حملوں کے خطرے کے پیش نظر خوراک کی اشیاء تقسیم کرنے والے متعدد خیراتی باورچی خانوں نے اپنا کام بند کردیا ہے۔

واضح رہے کہ حلب سنہ 2012ء سے دو حصوں میں منقسم ہے۔شہر کے مشرقی حصے پر باغیوں کا قبضہ چلا آرہا ہے اور مغربی حصے پر سرکاری فورسز کا کنٹرول ہے۔اب ستمبر کے اوائل سے شامی فوج نے مشرقی حصے کا محاصرہ کررکھا ہے۔شہر کے اس حصے میں قریباً ڈھائی لاکھ افراد مکین ہیں اور انھیں خوراک کے علاوہ پانی کی قلّت کا بھی سامنا ہے۔ اس انسانی المیے پر عالمی سطح پر سخت تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے۔

حلب کی صورت حال پر غور کے لیے اتوار کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس ہوا تھا۔اس میں برطانیہ ،فرانس اور امریکا نے روس پر زوردیا تھا کہ وہ اپنے اتحادی شام پر جنگ بندی کے لیے دباؤ ڈالے۔ تاہم سلامتی کونسل نے شام میں شہری علاقوں پر فضائی حملے رکوانے کے حوالے سے خود کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں