.

"سائنسی حماقت" کا نوبل انعام کس سائنس دان کی قسمت میں آیا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی یونی ورسٹی ہارورڈ میں منتعقدہ تقریب کے دوران رواں سال 2016 کے لیے "سائنسی حماقت کا نوبل انعام" مصر کے متوفی سائنس داں ڈاکٹر احمد شفیق کو دیا گیا۔ یہ انعام عجیب و غریب سائنسی انکشافات اور انسانیت کے لیے غیر مفید ایسی تحقیق پر پیش کیا جاتا ہے جو لوگوں کو ہنسنے پر مجبور کر دے۔

مصری سائنس داں ڈاکٹر احمد شفیق نے 1993 میں ایک تحقیقی مقالہ تحریر کیا تھا۔ اس مقالے میں انکشاف کیا گیا تھا کہ پولیسٹر یا غیر خالص کاٹن کے ٹراؤزر پہننے والے چوہوں کی جنسی سرگرمی ُان چوہوں کے مقابلے میں کم ہوتی ہے جو کاٹن یا ُاون کے ٹراؤزر پہنتے ہیں۔

احمد شفیق 10 مئی 1933 کو مصر کے صوبے المنوفیہ کے شہر شبین الکوم میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک معروف سرجن تھے اور انہوں بہت سے انعامات اور ایوارڈز حاصل کیے۔

احمد شفیق 1981 میں نوبل انعام کے لیے نامزد ہوئے تاہم جیت نہیں سکے۔ انہیں عالمی سطح پر بہترین محقق کے طور پر چنا گیا جس پر اس وقت کے مصری صدر انور سادات نے انہیں اعزاز و اکرام سے نوازا۔

ڈاکٹر احمد شفیق نے اپنی زندگی میں سرجری کے شعبے میں ڈاکٹریٹ کے 100 سے زیادہ مقالوں کی نگرانی کی۔ ان کی بہت سی تحقیقوں نے مصر ، عرب دنیا اور بین الاقوامی سطح پر بھرپور پذیرائی حاصل کی۔ ان کا نام مصر کی نمایاں ترین شخصیات کے انسائیکلوپیڈیا میں شامل کیا گیا۔ انہوں نے اپنی وفات سے قبل ایڈز کے علاج کے لیے دوا بھی دریافت کی تاہم اسے کوئی پذیرائی حاصل نہیں ہوئی۔

وہ یکم نومبر 2007 کو دل کا شدید دورہ پڑنے کے بعد پیرس کے "جارج بومبيڈو" ہسپتال میں 73 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔