یمنی بحران کا مستقل حل عارضی جنگ بندی سے بہتر ہے : عرب اتحاد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن میں آئینی حکومت کی حمایت کرنے والے عرب اتحاد نے کہا ہے کہ جنگ زدہ ملک میں جاری بحران کے کسی حتمی سیاسی حل تک پہنچنا عارضی جنگ بندی سے بہتر ہے۔ یہ بات سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل احمد العسیری نے فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے۔

حوثیوں کی اس تجویز پر کہ اگر ان کے ٹھکانوں پر اتحادی حملے روک دیے جائیں تو وہ سعودی عرب کی جنوبی سرحد پر عسکری کارروائیاں روک دیں گے،عسیری نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ عرب اتحاد ایسی کسی بھی کوشش کا خیر مقدم کرتا ہے جس کا نتیجہ یمنی بحران کے کسی حقیقی سیاسی حل کی صورت میں سامنے آئے۔ عسیری کے نزدیک یہ کسی بھی مرحلہ وار فائر بندی سے زیادہ فائدہ مند ہوگا۔

دوسری جانب یمن کے معزول صدر علی عبداللہ صالح نے شاطرانہ چال کا سہارا لیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ یمن اور ایران کے درمیان کوئی اتحاد نہیں اور اس سے بھی بڑھ کر صالح نے سعودی عرب کے ساتھ براہ راست بات چیت کی مطالبہ کیا ہے۔

حوثیوں نے، جو معزول صدر صالح کے حلیف ہیں، اپنا لہجہ دھیما کرتے ہوئے ایک نیا امن منصوبہ پیش کیا ہے۔ ادھر یمن کی آئینی حکومت حوثی ملیشیاؤں کو ہتھیار فراہم کرنے میں ایران کے ملوث ہونے کے حوالے سے سلامتی کونسل کے ساتھ خط و کتابت کی تیاری کر رہی ہے۔

باغیوں کی جانب سے تشکیل شدہ نام نہاد سپریم سیاسی کونسل کے سربراہ صالح الصماد نے ایک منصوبہ پیش کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر وہ سعودی سرحد پر حملے روک دیتے ہیں تو عرب اتحاد بھی ملیشیاؤں پر حملوں کا سلسلہ موقوف کر دے۔ الصماد نے اپنے منصوبے پر عمل درامد کے لیے اقوام متحدہ سے مدد طلب کی ہے۔

یہ پیش رفت گذشتہ دو ماہ کے دوران سعودی سرحد پر مارے جانے والے یمنی باغی جنگجوؤں کی تعداد 2000 تک پہنچ جانے کے بعد سامنے آئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں