اُردن: توہین مذہب کے ملزم کا قاتل سابق امام مسجد نکلا

ناھض حتر کے قاتل نے حال ہی میں فریضہ حج بھی ادا کیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اردن کی پولیس نے اتوار کے روز ایوان عدل کے باہر معروف صحافی اور مصنف ناھض حتر کے قتل کے الزام میں ایک سابق امام مسجد کو حراست میں لیا ہے۔ ناھض حتر کا مبینہ قاتل ایک ہفتہ قبل فریضہ حج کی ادائی کے بعد وطن واپس لوٹا تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے اردن کے مقامی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ توہین مذہب کے ملزم اردنی مصنف کے قتل میں ملوث شخص کی شناخت ریاض عبداللہ کے نام سے کی گئی ہے جس کی عمر 49 سال بیان کی جاتی ہے۔ پولیس نے اسے حراست میں لے کر تفتیش شروع کردی ہے۔

خیال رہے کہ ناھض حتر کو گذشتہ اتوار کے روز عمان میں عدالت کے باہر اس وقت گولیاں مار کر ہلاک کردیا گیا تھا جب وہ سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ‘فیس بک‘ پر اللہ تعالیٰ کی توہین پرمبنی ایک کارٹون پوسٹ کرنے کے مقدمہ میں پیشی کے لیے عدالت آ رہے تھے۔ اردنی شہریوں کی جانب سے توہین آمیز کارٹون پوسٹ کرنے پرحتر کے خلاف توہین مذہب کا مقدمہ قائم کیا گیا تھا۔

گرفتا ملزم کے بارے میں سامنے آنے والی تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ وہ ایک ہفتہ قبل سعودی عرب میں فریضہ حج کی ادائی کے بعد وطن واپس لوٹا تھا۔ اس کا کسی بیرونی عسکری گروپ کے ساتھ رابطہ ثابت نہیں ہوسکا اور نہ ہی اس کا کسی دہشت گرد تنظیم سے کوئی تعلق ہے۔ البتہ وہ ایک سابق امام مسجد ہے جسے چھ سال پہلے اردنی وزارت اوقاف نے پیش امامت کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔

اردنی پراسیکیوٹر کا کہنا ہے کہ ناھض حتر کے قتل میں گرفتار ملزم کا کہنا ہے کہ وہ ایک عرصے سے حتر کے قتل کی منصوبہ بندی کررہا تھا۔ ملزم کا کہنا ہے کہ اس نے اس سے پہلے کبھی ناھض حتر کو قریب سے نہیں دیکھا۔ اس نے حتر کی صرف انٹرنیٹ پر تصاویر دیکھ رکھی تھیں، جب اس نے فیس بک پر توہین آمیز کارٹون پوسٹ کیا تو اس کی تصاویر تلاش کرکے شناخت کی گئی۔ ملزم کا کہنا ہے کہ وہ اپنے کیے پر نادم نہیں۔ اس نے ایک ایسے شخص کو موت کے گھاٹ اتارا ہے جس نے اللہ کی شان میں گستاخی کا سنگین جرم کیا تھا۔ اللہ کی شام میں گستاخی کا مرتکب واجب القتل ہے۔

ناھض حتر کے قاتل نے ایک ہفتہ قبل ہی ایک شخص سے پستول خرید کیا تھا۔ اس نے حتر کے مقدمہ کے بارے میں تفصیلات جمع کیں اور اپنے شکار کو نشانہ بنانے کے لیے عمان میں ایک عدالت کے باہر پہنچ گیا جہاں کچھ ہی دیر میں توہین مذہب کا ملزم ناھض حتر عدالت میں پیشی کے لیے پہنچا۔ عدالت میں داخل ہونے سے قبل ملزم نے ناھض پر گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں وہ زمین پر گر پڑا۔ اسپتال پہنچائے جانے سے قبل ہی وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا تھا۔

ناھض حتر نے اپنی پچھلی پیشی کے موقع پر عدالت سے سیکیورٹی فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور کہا تھا کہ اسے قتل کی دھمکیاں مل رہی ہیں اور اسکی جان کو خطرہ لاحق ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں