مشرقی حلب پر بلا تعطل بمباری ، اسپتال زخمیوں سے بھر گئے

شدید زخمیوں کو لگانے کے لیے خون کم یاب ،ادویہ اور اشیائے ضروریہ کی قلّت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

شامی اور روسی طیاروں کی حلب کے مشرقی حصے پر بلا تعطل بمباری جاری ہے جس کے نتیجے میں مہلوکین اور زخمیوں کی تعداد روز بروز بڑھتی جارہی ہے اور اسپتال زخمیوں سے بھر گئے ہیں جبکہ طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسپتالوں میں ادویہ اور دوسرا سامان کم پڑتا جارہا ہے۔

باغیوں کے زیر قبضہ حلب کے مشرقی علاقے میں اس وقت قریباً ڈھائی لاکھ شہری محصور ہیں۔شامی فوج اور اس کی اتحادی ملیشیاؤں نے اس کی مکمل ناکا بندی کر رکھی ہے۔گذشتہ پانچ روز میں شہر میں فضائی حملوں میں سیکڑوں افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے ہیں جبکہ شہر کے مکینوں نے خبردار کیا ہے کہ غذائی اجناس اور ادویہ کی قلّت بڑھتی جارہی ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق کا کہنا ہے کہ حلب اور اس کے نواحی علاقوں میں گذشتہ ہفتے جنگ بندی کے خاتمے کے بعد سے فضائی حملوں میں 38 بچوں سمیت 237 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔حزب اختلاف کے زیر قبضہ علاقوں میں شہری دفاع کے کارکنان نے فضائی بمباری میں چار سو افراد کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔

روس نے مغربی ممالک کے مطالبے کے باوجود شامی صدر بشارالاسد کی حمایت میں باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں پر فضائی حملے بند نہیں کیے ہیں۔امریکا نے روس کی ان کارروائیوں کو ''بربریت'' قرار دیا ہے جبکہ ماسکو نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ اس کے حملوں میں عام شامی شہری ہلاک ہو رہے ہیں۔اس کا کہنا ہے کہ مغرب کی جانب سے اس طرح کے بیانات سے تنازعے کے حل میں کوئی مدد نہیں مل سکتی۔

مغربی ممالک روس پر یہ الزامات عاید کررہے ہیں کہ وہ طبی عملے اور امدادی قافلوں کو نشانہ بنا کر جنگی جرائم کا مرتکب ہورہا ہے۔ماسکو اور دمشق کا کہنا ہے کہ وہ صرف جنگجوؤں کو فضائی حملوں میں نشانہ بنا رہے ہیں اور عام شہریوں پر بمباری نہیں کی جارہی ہے جبکہ حلب میں فضائی بمباری میں تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے سے بچوں اور خواتین کو نکالنے کی متعدد ویڈیوز سامنے آچکی ہیں۔

روسی اور شامی فوج باغی جنگجوؤں کو نشانہ بنانے کے لیے گائیڈڈ میزائل اور ہدف کو ٹھیک ٹھیک نشانہ بنانے والے ہتھیار استعمال کررہی ہے۔ان سے خفیہ پناہ گاہوں ،بنکروں اور سرنگوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے اور اس فضائی بمباری سے پوری پوری عمارتیں یک لخت تباہ ہورہی ہیں۔ شہر کے مکینوں کا کہنا ہے کہ جنگ کے آغاز کے بعد سے یہ سب سے تباہ کن بمباری ہے اور میزائل حملوں میں عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن رہی ہیں۔

ادھر حلب کے ایک اسپتال کے انتہائی نگہداشت یونٹ میں کام کرنے والے ایک رکن عارف العارف نے بتایا ہے کہ ''شہر کے اسپتال زخمیوں سے بھرے پڑے ہیں اور اب معاملات ہاتھ سے نکلنا شروع ہوگئے ہیں۔ہم اسپتالوں میں کسی بھی چیز کو لانے کے قابل نہیں رہے ہیں۔حتیٰ کہ آلات اور طبی عملہ بھی نہیں آسکتا۔باہر کے علاقوں سے تعلق رکھنے والا طبی عملہ محاصرے کی وجہ سے شہر میں داخل نہیں ہوسکتا ہے''۔

حلب کے محاصرے کے بعد غذائی اجناس کم یاب ہوتی جارہی ہے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں اور وہ بآسانی دستیاب بھی نہیں ہو رہی ہیں۔شہر میں فضائی حملوں کے خطرے کے پیش نظر خوراک کی اشیاء تقسیم کرنے والے متعدد خیراتی باورچی خانوں نے اپنا کام بند کردیا ہے۔

واضح رہے کہ حلب سنہ 2012ء سے دو حصوں میں منقسم ہے۔شہر کے مشرقی حصے پر باغیوں کا قبضہ چلا آرہا ہے اور مغربی حصے پر سرکاری فورسز کا کنٹرول ہے۔اب ستمبر کے اوائل سے شامی فوج نے مشرقی حصے کا مکمل محاصرہ کررکھا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں